ممبئی (نیوز ڈیسک) بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار وجے دیوراکونڈا نے فلم ’جنا نایگن‘ کے لیک ہونے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
وجے دیوراکونڈا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’جنا نایگن‘ کی لیک ہونے والی ویڈیو نے انہیں شدید ناراض کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ابتدائی کیریئر کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات فنکاروں کے لیے نہ صرف مالی نقصان بلکہ جذباتی طور پر بھی بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک فلم میں صرف اداکار ہی نہیں بلکہ ہدایت کار، پروڈیوسر اور درجنوں افراد کے خواب جڑے ہوتے ہیں۔

اداکار نے زور دیا کہ اس معاملے کو فوری طور پر حل کیا جانا چاہیے اور اس کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کر کے سخت کارروائی کی جائے، بصورت دیگر یہ پورے نظام کی ناکامی تصور ہوگی۔ انہوں نے فلم کی ٹیم کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
فلم لیک ہونے کی تفصیلات
رپورٹس کے مطابق فلم ’جنا نایگن‘ کے کئی مناظر، جن میں مرکزی کردار کا تعارفی سین اور ٹائٹل شامل ہے، آن لائن لیک ہو گئے۔ تقریباً پانچ منٹ کی ہائی کوالٹی ویڈیو ریلیز سے قبل ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس پر فلمی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
فلم کی پروڈکشن کمپنی نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ نامعلوم افراد نے غیر قانونی طور پر فلم تک رسائی حاصل کر کے اس کے حصے نقل اور پھیلا دیے۔
فلمی شخصیات کا سخت ردعمل
معروف ہدایت کار اے آر مرگادوس نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فلم کا لیک ہونا صرف ایک فلم کا نقصان نہیں بلکہ سینکڑوں افراد کی محنت، خواب اور روزگار پر حملہ ہے۔ انہوں نے شائقین سے اپیل کی کہ وہ فلمیں صرف سینما گھروں یا قانونی پلیٹ فارمز پر دیکھیں۔
اس کے علاوہ سپر اسٹارز رجنی کانت، کمل ہاسن، سوریہ اور چرنجیوی نے بھی واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا۔
کمل ہاسن کا نظام پر سوال
کمل ہاسن نے اپنے بیان میں کہا کہ ’جنا نایگن‘ کا لیک ہونا محض حادثہ نہیں بلکہ نظام کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق اگر فلم کی منظوری کے عمل میں تاخیر نہ ہوتی تو ایسے حالات پیدا نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ جب قانونی رسائی میں رکاوٹ آتی ہے تو غیر قانونی ذرائع خود بخود فعال ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلمی قزاقی سیاست سے بالاتر ہو کر فن اور فنکار پر براہ راست حملہ ہے، جو سینما سے وابستہ تمام افراد کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ کمل ہاسن نے مطالبہ کیا کہ نظام میں شفافیت، فوری منظوری، سخت نفاذ اور بروقت کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
فلم ’جنا نایگن‘ کے لیک ہونے کے بعد پورے بھارتی فلمی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے جبکہ شائقین سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ فلم کو قانونی طریقے سے دیکھ کر فنکاروں کی حوصلہ افزائی کریں۔









