جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حالیہ اسرائیل امریکہ مذاکرات کے اسلام آباد میں انعقاد سے ملک کا وقار بلند ہوا ہے۔
مذاکرات ناکام نہیں ہوئے بلکہ اس کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا۔ جلد دوسرے مرحلے کا انعقاد ہوگا۔ اللہ کا کرم ہے کہ دنیا اسلام آباد میں امن تلاش کر رہی ہے۔ حکمرانوں کوحالیہ حالات کی وجہ عوام پر گرایا گیا مہنگائی کا طوفان واپس کرنا ہوگا۔ اسرائیل سرزمین عرب پر ایک غیر قانونی اور ناجائز ریاست ہے۔
اس کا خاتمہ امت مسلمہ کی آرزو ہے۔ وہ مردان سپورٹس کمپلکس میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے زیر اہتمام ایک بہت بڑے جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ جلسے سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری، صوبائی امیر مولانا عطاء الرحمن، صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا عطاء الحق درویش، راشد محمود سومرو، محمود سومرو، نصیر احمد احرار اور ضلعی امیر مولانا امانت شاہ حقانی نے بھی خطاب کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ یہودی اور مودی کا اکھٹا ہونا امت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے یہود و ہنود کے اس گندے اتحاد کو ہم کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطینوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے باوجود ملک کو غلام رکھا جا رہا ہے ہم اس کو حقیقی آزادی دلا کر رھیں گے۔
مزید پڑھیں:مذاکرات کی ناکامی ، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر غور
شریف برادران اور زرداری سر جھکا سکتے ہیں لیکن ہم کبھی باطل کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ ملک میں امن تباہ ہے بے گناہ لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ حکومتی ادارے بے بس اور مسلح جھتے آزاد پھر رہے ہیں ۔ صوبے اور مرکز میں چوری کے ووٹ سے بنائے گئی حکومتیں مسلط کی گئیں ہے۔ جس طرح جعلی نوٹ نہیں چلتا اسی طرح جعلی حکومتیں بھی نہیں چلیں گی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہا کہ اتوار کے روز ہم نے ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا تھا لیکن کہا گیا کہ بیرونی مہمان آرہے ہیں تو ہم نے اپنی سرزمین پر مہمانوں کی عزت کے لیے احتجاج کو ملتوی کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کو اللہ نے دنیا کی قیادت کے لیے بنایا ہے۔ ہم قوم کے اندر خود اعتمادی اور احساس برتری پیدا کر کے ملک کو وہی مقام دلانا چاہتے ہیں۔








