بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

افغان بھائیوں کو دلوں میں جگہ دی، بدلے میں گولہ باری ملی؛ باجوڑ کےشہریوں کی دوہائیاں

افغانستان کی جانب سے گزشتہ رات ہونے والی بلا اشتعال جارحیت کے نتیجے میں باجوڑ کے تین بے گناہ ۔شہری شہید ہو گئے۔ جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس اور اشتعال (anger)پایا جاتا ہے۔ مقامی

 

شہریوں نے اس واقعے پر اپنے سخت ردعمل میں کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے نہتے شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا ایک انتہائی بزدلانہ فعل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ حسنِ سلوک اور رواداری کا مظاہرہ کیا اور افغان بھائیوں کو اپنے دلوں اور گھروں میں جگہ دی، لیکن آج وہی لوگ پاکستانی عوام پر گولہ باری کر رہے ہیں جو کہ ناقابلِ قبول ہے۔

باجوڑ کے رہائشیوں نے خیبر پختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کا کوئی مؤثر کردار نظر نہیں آتا۔ شہریوں کے مطابق حکومت کی تمام تر توجہ صوبائی مسائل اور عوامی تحفظ کے بجائے صرف اڈیالہ جیل کے گرد گھومتی ہے۔ عوامی حلقوں نے شکوہ کیا کہ صوبائی حکومت نے صرف زبانی اعلانات اور دعوے کیے ہیں جبکہ عملی طور پر سرحد پار سے ہونے والی اس جارحیت کو روکنے یا متاثرین کی بحالی کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔

مزید پڑھیں:نیب کے زیرِ اہتمام اینٹی منی لانڈرنگ اور عالمی فریم ورک پر تربیتی کورس کا آغاز

متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کی جانب سے آئے روز عوامی مقامات پر گولہ باری کے واقعات نے ان کے لیے اب اچھائی کی تمام توقعات ختم کر دی ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت اور مقتدر حلقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان بزدلانہ حملوں کا فوری اور مؤثر تدارک کیا جائے تاکہ سرحدی علاقوں میں بسنے والے پاکستانیوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔