پہلگام واقعے کے بعد بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گئی ہے، جہاں غیر مصدقہ دعوؤں اور یکطرفہ بیانیے نے صحافتی معیار پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مبصرین کے مطابق واقعے کے فوری بعد بعض ٹی وی چینلز اور اینکرز نے بغیر ٹھوس شواہد کے پاکستان مخالف مؤقف کو نمایاں کیا، جسے ناقدین من گھڑت پروپیگنڈا قرار دے رہے ہیں۔
میڈیا تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی نشریاتی اداروں کی ایک بڑی تعداد نے پیشہ ورانہ اصولوں سے ہٹ کر حکومتی بیانیے کو تقویت دی، جبکہ زمینی حقائق اور آزادانہ تصدیق کو نظر انداز کیا گیا۔ اس طرزِ کوریج پر نہ صرف مقامی سطح پر سوالات اٹھے بلکہ بین الاقوامی حلقوں میں بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
خاص طور پر Arnab Goswami کے بیانات اور ان کے پروگراموں میں ہونے والی گفتگو نے تنازع کو مزید ہوا دی۔ ناقدین کے مطابق ٹی وی مباحثوں میں جنگی ماحول پیدا کرنے، اشتعال انگیزی بڑھانے اور عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوششیں دیکھنے میں آئیں، جو خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح ریٹائرڈ بھارتی جنرل G D Bakshi سمیت بعض تجزیہ کاروں کے بیانات بھی زیر بحث رہے، جنہیں ناقدین نے غیر ذمہ دارانہ اور متنازع قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق ایسے بیانات نہ صرف کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ صحافتی ذمہ داریوں سے انحراف کی مثال بھی بنتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کیخلاف تعصب عروج پر، پہلگام فالس فلیگ کے مقاصد پر سوالات
میڈیا واچ ڈاگز اور مبصرین کا کہنا ہے کہ جعلی خبروں، مبالغہ آرائی اور جنگی بیانیے کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوششیں قابلِ تشویش ہیں۔ ان کے مطابق اس طرز کی رپورٹنگ سے نہ صرف اندرونی سطح پر عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی میڈیا کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔
علاقائی امور کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں غیر ذمہ دارانہ میڈیا کوریج اور اشتعال انگیز بیانات امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق پر مبنی، متوازن اور تصدیق شدہ رپورٹنگ کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ کشیدگی کم ہو اور عوام کو درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔
مبصرین کے مطابق پہلگام واقعے کے بعد بھارتی میڈیا کا کردار ایک بار پھر زیرِ بحث آ گیا ہے، اور ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافتی ادارے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر جانبدارانہ اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو فروغ دیں۔









