لاہو(نیوز ڈیسک)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ انسانوں کی خریدوفروخت کرنے والے قوم کی قیادت کے اہل نہیں، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی نے ملک کو بند گلی میں دھکیلا، قوم سے معافی مانگیں،اسٹیبلشمنٹ نے بھی بار بار انہی جماعتوں کو ملک پر مسلط کیا جن کے پاس ترقی و اصلاحات کے لیے کوئی ایجنڈا نہیں ہے،نجات کا واحد راستہ اسلامی نظام ہے، اس کے بغیر فوجی آمروں کے تجربات بھی ناکام ہوئے اور اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے اقتدار میں آنے والی سیاسی جماعتیں بھی فیل ہو گئیں۔ حکمرانوں کی اخلاقی ساکھ ختم، جھوٹ پر مبنی سیاست بری طرح ایکسپوز ہو چکی ہے۔ خرابیوں اور بربادیوں کے ذمہ دار جاگیردار، وڈیرے اور کرپٹ سرمایہ دار ہیں جو پارٹیاں بدل بدل کر دولت کے بل بوتے پر ایوانوں میں آتے ہیں۔ طاقتور افراد کو کرپشن پر کوئی پوچھنے والا نہیں، افسوس کہ عدالتوں نے بھی لوٹ مار پر آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ پاناما لیکس اور پنڈوراپیپرز میں ملوث افراد کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں ہوئی، طاقتور اشرافیہ قانون کا مذاق اڑاتی ہے۔ عدالتوں کے فیصلوں سے لگتا ہے کہ حق اور ناحق کی بجائے فریقین کواکاموڈیٹ کیا جاتا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ کے عذاب نے لوگوں کی نیندیں اڑا دیں۔ معیشت تباہ، ڈالر کی پرواز جاری ہے۔ قومی معیشت کے فیصلے امریکا میں آئی ایم ایف کے بند کمروں میں ہوتے ہیں۔ موجودہ اور سابقہ حکمرانوں نے ملک کو استعمار کی غلامی میں دھکیلا، یہی لوگ معاشرے میں گالم گلوچ کلچر کے فروغ کے ذمہ دار ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے چکدرہ دیرپائن میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائب امیر صوبہ کے پی نورالحق، امیر جماعت اسلامی ضلع مالاکنڈ مولانا جمال الدین اور سلطنت یار ایڈووکیٹ بھی اس موقع پر موجود تھے۔سراج الحق نے کہا کہ مفادات کی سیاست نے ملک تباہ کر دیا ہے۔ سیاسی بحران معیشت کی خرابی کی بنیادی وجہ ہے۔ ہمارے پاس وسائل کی کمی نہیں، لیکن مافیاز نے ہر شعبہ کو یرغمال بنا دیا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ ن لیگ اورپی پی کے بعد تحریک انصاف آ ئی تو تبدیلی آ جائے گی، حقیقت یہ ہے کہ یہ تینوں حکمران جماعتیں ایک ہی سسٹم کے پرزے ثابت ہوئے۔ حکمران سٹیٹس کو بحال رکھنا چاہتے ہیں، عوام کی کوئی بات نہیں کرتا۔ ملک کے 35سال جرنیلوں نے اور بقیہ نام نہاد جمہوریتوں کی نذر ہو گئے۔ عوام کے ساتھ سات دہائیوں سے کھلواڑ ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب کا تماشا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا، سندھ اور بلوچستان میں لوگوں کے گھر بارشوں اور سیلاب میں بہہ گئے۔ خیبرپختونخوا میں 9برسوں سے حکمران جماعت کوئی تبدیلی نہ لا سکی۔ حکمران جماعتوں نے معاشرے کو بری طرح تقسیم کر دیا۔ سیاست دانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو مزید تباہی آئے گی۔ ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے اسلامی نظام کے نفاذ کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ اللہ کی سرزمین پر اللہ کا نظام ہی بہترین آپشن ہے۔ سودی نظام سے چھٹکارا انسانیت کو استعمار کی غلامی سے نجات دلا سکتا ہے، ملکی معیشت کی بہتری کے لیے بھی یہی راستہ بچا ہے۔ عوام سودی سرمایہ دارانہ نظام سے نجات اور پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دے۔امیر جماعت نے کہا کہ موجودہ اور ماضی کی حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوا۔ آج ملک میں آٹھ کروڑ سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ لاکھوں بچے سکولوں سے باہر، لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار ہیں۔ کرپشن، بیڈ گورننس اور حکمرانوں کی نااہلی اور غیرسنجیدگی کی وجہ سے ملک کے حالات ہر آئے روز بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ بے روزگاری کا طوفان ملک کو انارکی کی طرف اور غربت سے عوام میں خودکشیوں کارجحان بڑھ رہا ہے۔سراج الحق نے حکومت پر ایک دفعہ پھر زور دیا کہ سود پروفاقی شرعی عدالت کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اپیل واپس لے۔ انھوں نے کہا قوم اس کرپٹ نظام سے چھٹکارا چاہتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے جماعت اسلامی کو موقع دیا تو ہم سود سے پاک معاشی نظام متعارف کرائیں گے۔








