مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں NVIDIA نے نیا RTX Spark چپ متعارف کرا دیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ جدید چپ لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز میں براہِ راست مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں فراہم کرے گا، جس سے صارفین کو کئی AI فیچرز کلاؤڈ سروسز کے بغیر اپنے کمپیوٹر پر استعمال کرنے کا موقع ملے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق RTX Spark چپ کو اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹس اور ایپلی کیشنز کو مقامی سطح (لوکل ڈیوائس) پر چلایا جا سکے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے صارفین کو ہر وقت انٹرنیٹ یا ریموٹ سرورز پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا، جس سے رفتار، رازداری اور کارکردگی میں بہتری متوقع ہے۔
کمپنی نے اس منصوبے کے لیے MediaTek کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ دونوں ٹیکنالوجی اداروں نے مل کر ایسی جدید چپ تیار کی ہے جو کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے درمیان موجود فاصلے کو مزید کم کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں ذاتی کمپیوٹرز صرف روایتی کاموں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وہ پیچیدہ AI ماڈلز اور اسمارٹ اسسٹنٹس کو بھی براہِ راست چلانے کے قابل ہوں گے۔
مزیدپڑھیں:آئندہ ایک ہفتے میں ایران کیساتھ معاہدہ ہوجائے گا،ٹرمپ پُر امید
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ RTX Spark چپ کی آمد سے “آن ڈیوائس اے آئی” کے رجحان کو فروغ ملے گا۔ اس سے صارفین تصاویر کی تخلیق، ویڈیو ایڈیٹنگ، زبان کی پروسیسنگ، کوڈنگ اسسٹنٹس اور دیگر AI فیچرز کو زیادہ تیزی اور بہتر سیکیورٹی کے ساتھ استعمال کر سکیں گے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ایسی مصنوعات متعارف کرا رہی ہیں جو AI کو براہِ راست صارفین کے آلات تک پہنچا سکیں۔ این ویڈیا کا نیا RTX Spark چپ بھی اسی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے نزدیک یہ پیش رفت مستقبل کے کمپیوٹرز کو زیادہ ذہین، تیز رفتار اور خودکار بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جبکہ کاروباری اداروں، طلبہ، ڈویلپرز اور عام صارفین کے لیے بھی نئی سہولیات کے دروازے کھلنے کا امکان ہے۔









