بحرِ ہند کی گہرائیوں میں دنیا کا سب سے بڑا وہیلز کا قبرستان(whale graveyard) دریافت ہوا ہے، جس کی نشاندہی چینی سائنسدانوں نے کی ہے۔ محققین کے مطابق اس وسیع زیرِ سمندر علاقے میں موجود پرانی اور نئی وہیلز کی باقیات گہرے سمندری حیات کے بڑے نظام کو سہارا دے رہی ہیں۔
جرنل “نیچر” میں بدھ کے روز شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ اب تک دریافت ہونے والا سب سے گہرا اور قدیم وہیل قبرستان بھی ہے، جہاں بعض فوسلز 5.3 ملین سال پرانے بتائے گئے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 500 وہیل ڈھانچے 7 ہزار میٹر کی گہرائی میں ایک 1200 کلومیٹر طویل سمندری پٹی میں پائے گئے ہیں، جو آسٹریلیا کے مغرب میں واقع بحرِ ہند کے علاقے میں پھیلی ہوئی ہے۔
چینی سائنسدانوں نے آبدوز کے ذریعے مشاہدہ کرتے ہوئے حیران کن طور پر ایسی سمندری مخلوقات دیکھی ہیں جو ممکنہ طور پر سائنس کے لیے نئی ہیں اور ان کا انحصار ان وہیلز کی باقیات پر ہے۔ اسی تحقیق کے دوران ایک معدوم وہیل کی نئی نسل کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:واروک شائر کے سابق وکٹ کیپر کیتھ پائپر 56 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
تحقیق کے سربراہ ژیاوٹونگ پینگ کے مطابق ٹیم اس وقت حیران رہ گئی جب اس دریافت کے پیمانے اور وسعت کا اندازہ ہوا۔ ان کے مطابق یہ بات پہلے سے معلوم تھی کہ جب وہیل مر کر سمندر کی تہہ میں گرتی ہے تو اس کی باقیات “وہیل فال” کے نام سے سمندری حیات کے لیے خوراک کا ذریعہ بنتی ہیں، لیکن اس پیمانے کا قبرستان غیر متوقع تھا۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں وہیلز کی بڑی تعداد میں ہلاکت کی ممکنہ وجہ یہ ہے کہ یہ خطہ ان کی خوراک حاصل کرنے کا اہم علاقہ ہے، جبکہ زیرِ سمندر موجود V-شکل کی کھائی ان باقیات کو ایک جگہ جمع کرنے میں مدد دیتی ہے۔
اس تحقیق کے لیے 2023 میں چینی آبدوز “فینڈوزے” نے 32 بار گہرے سمندر میں ڈائیو کیا، تاہم اس انکشاف کو اب جریدے “نیچر” میں سامنے لایا گیا ہے۔ آبدوز میں تین افراد موجود ہوتے تھے جو روبوٹک بازوؤں کی مدد سے نمونے حاصل کرتے رہے۔
تحقیق کے شریک مصنف ژاؤ ژو کے مطابق یہ منظر دیکھنا ایک ناقابلِ یقین تجربہ تھا اور سائنسدان اس دریافت کو ایک تاریخی پیشرفت قرار دے رہے ہیں۔









