واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (Sentcom)نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران میں متعدد اہداف کے خلاف دفاعی نوعیت کے حملے مکمل کر لیے گئے ہیں۔
سینٹ کام کے مطابق کارروائی کے دوران ایران کی فوجی نگرانی کی صلاحیتوں، مواصلاتی نظام اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ان حملوں میں امریکی میرین کور، فضائیہ اور بحریہ نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی کا ہدف وہ ایرانی اثاثے تھے جو امریکی افواج اور تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔
سینٹ کام نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ حملے ایران کی “بلاجواز اور مسلسل جارحیت” کے جواب میں کیے گئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی افواج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور خطے میں اپنے مفادات اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھیں گی۔
ایرانی دارالحکومت تہران سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
ایرانی خبر ایجنسیوں کے مطابق تہران کے علاوہ سیریک، مناب، قشم، ہنگام اور گورگان میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ قشم اور ہنگام میں سنے جانے والے دھماکے میزائل حملوں کے نتیجے میں ہوئے۔ جبکہ بندرگاہی شہر گورگان میں بھی دھماکوں کی گونج سنی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:محرم الحرام کا چاند دیکھنے کیلئے رویتِ ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب
تاحال ایرانی حکام کی جانب سے دھماکوں کی نوعیت، ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم مختلف علاقوں میں سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔









