بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وفاقی بجٹ میں غریب طبقے کے لیے ریلیف محدود ہے: سینیٹر عبدالقادر

کوئٹہ، چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر(senator abdul qadir) نے کہا ہے کہ مالی سال2026-27کا بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب ملک مہنگائی، توانائی کے بڑھتے ہوئے نرخوں، بے روزگاری اور معاشی دباؤ جیسے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے۔

مجموعی طور پر بجٹ میں مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے، ترقیاتی اخراجات اور معاشی استحکام کے اہداف کو مدنظر رکھا گیا ہے، جس کے باعث اسے ایک حد تک مثبت اور متوازن بجٹ قرار دیا جا سکتا ہے۔
تاہم اس بجٹ کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ عام اور غریب طبقے کو اتنا ریلیف نہیں مل سکا جس کی انہیں شدید ضرورت تھی حکومت نے معاشی استحکام اور مالی خسارے میں کمی کیلئے متعدد اقدامات تجویز کیے ہیں ۔
ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز مختص کیے گئے ہیں جبکہ بعض شعبوں میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کیلئے مراعات بھی دی گئی ہیں۔

یہ اقدامات طویل المدتی معاشی بہتری میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں تاہم عوام کی فوری مشکلات کا تعلق روزمرہ اخراجات سے ہے جہاں بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتیں انکی زندگی کو مسلسل دشوار بنا رہی ہیں۔

چند برسوں کے دوران توانائی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جس نے متوسط اور غریب طبقے کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے بجٹ میں اگر بجلی اور گیس کے نرخوں میں نمایاں کمی یا ہدفی سبسڈی کا اعلان کیا جاتا تو اس سے لاکھوں خاندانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکتا تھا ۔

اسی طرح پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں میں کمی بھی مہنگائی کے مجموعی دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ملک کا کم آمدنی والا طبقہ پہلے ہی بے انتہا مالی بوجھ تلے دبا ہوا ہے خوراک، تعلیم، صحت اور رہائش کے اخراجات میں اضافے نے انکی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔

ایسے حالات میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ معاشی استحکام کیساتھ ساتھ سماجی تحفظ کے اقدامات کو بھی مزید مؤثر بنائے صرف معاشی اشاریوں کی بہتری کافی نہیں بلکہ اسکے ثمرات عام آدمی تک پہنچنا بھی ضروری ہیں۔

محدود مالی گنجائش اور بین الاقوامی مالیاتی ذمہ داریوں کے باعث بڑے پیمانے پر سبسڈیز دینا ممکن نہیں، لیکن کم آمدنی والے طبقات کیلئے ہدفی ریلیف پروگرام، یوٹیلٹی سبسڈیز اور توانائی نرخوں میں خصوصی رعایتیں فراہم کی جا سکتی تھیں۔

اس سے نہ صرف عوامی مشکلات میں کمی آتی بلکہ حکومت پر عوامی اعتماد بھی مضبوط ہوتا وفاقی بجٹ2026-27 معاشی استحکام اور ترقی کے اہداف کے حوالے سے مثبت دکھائی دیتا ہے ۔

لیکن غریب اور کمزور طبقے کیلئے اس میں ریلیف کی گنجائش محدود نظر آتی ہے۔ حکومت کو آئندہ مالی سال کے دوران بجلی، گیس اور پٹرولیم نرخوں میں مزید آسانیاں پیدا کرنے اور کم آمدنی والے خاندانوں کیلئے خصوصی امدادی اقدامات متعارف کرانے پر غور کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں:پینٹاگون میں خطرناک مواد موجودگی کی اطلاع، عمارت کی کئی منزلیں بند کردی گئیں

معاشی ترقی اسی وقت پائیدار اور بامعنی ہوگی جب اسکے ثمرات معاشرے کے سب سے کمزور طبقے تک بھی پہنچ سکیں اور انہیں باعزت زندگی گزارنے کیلئے درکار معاشی سانس لینے کی جگہ میسر آ سکی