وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر(keir starmer) کی حکومت کے ساتھ دفاعی اخراجات کے معاملے پر شدید اختلافات کے بعد برطانیہ کے وزیرِ دفاع جان ہیلی(John Healey ) نے جمعرات کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔
ان کا استعفیٰ نیٹو کے اہم سربراہی اجلاس سے چند ہفتے قبل برطانوی حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، اس اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شرکت کریں گے۔
جان ہیلی کے استعفے کی بنیادی وجہ ڈیفینس انویسٹمنٹ پلان میں تاخیر بتائی جا رہی ہے،جو فوجی سرمایہ کاری اور دفاعی تیاریوں کے لیے حکومت کا طویل عرصے سے وضع کردہ روڈ میپ تھا۔
دوسری جانب نیٹو کے اتحادی ممالک پر بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ایسوسی ایٹ فیلو ایڈ آرنلڈ نے کہا کہ جان ہیلی کا استعفیٰ حکومت اور وزارتِ دفاع دونوں کے لیے ایک غیرمعمولی واقعہ ہے۔
ان کے مطابق حکومت کو اب نئے وزیرِ دفاع کی تقرری اور دفاعی سرمایہ کاری منصوبے کی اشاعت جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہوگا۔
Breaking news: UK defence secretary John Healey has resigned, saying that the government has been ‘unwilling’ to commit sufficient resources to protecting the country https://t.co/boJiIKtJX5 pic.twitter.com/4GdgKmX3jF
— Financial Times (@FT) June 11, 2026
رپورٹس کے مطابق جان ہیلی گزشتہ چند ہفتوں سے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر اور وزیرِ خزانہ ریچل ریوز کے ساتھ دفاعی سرمایہ کاری منصوبے کے حجم اور اس کے نفاذ کے شیڈول پر مذاکرات کر رہے تھے۔
تاہم اسٹارمر نے 2035 تک دفاعی اخراجات کو مجموعی قومی پیداوار کے 3.5 فیصد تک لے جانے کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن دینے سے انکار کر دیا، حالانکہ انہوں نے گزشتہ سال نیٹو اجلاس میں صدر ٹرمپ سے ایسا وعدہ کیا تھا۔
مزیدپڑھیں:تھائی لینڈ کی شہزادی47 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں
اسی طرح وہ دفاعی اخراجات کو 3 فیصد تک پہنچانے کے لیے بھی کوئی حتمی تاریخ دینے پر آمادہ نہیں ہوئے۔
اس کے بجائے اسٹارمر نے جان ہیلی کو 2030 تک دفاعی اخراجات جی ڈی پی کے 2.68 فیصد تک بڑھانے کی پیشکش کی، جو آئندہ سال کے متوقع 2.6 فیصد کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہے۔
اپنے استعفیٰ میں جان ہیلی نے لکھا کہ حکومت اور وزارتِ خزانہ ملک کے دفاع کے لیے درکار وسائل فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ مالی پابندیاں ملک کو کم محفوظ بنا دیں گی۔
دفاعی ماہر پروفیسر کیون رولینڈز نے کہا کہ اگر دفاعی سرمایہ کاری منصوبے میں تاخیر پہلے ہی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی تھی تو جان ہیلی کے استعفے نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
ان کے مطابق اس فیصلے سے برطانوی افواج، وزارتِ دفاع اور دفاعی صنعت کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
اس استعفے کے اثرات امریکا تک بھی محسوس کیے جانے کا امکان ہے، جہاں واشنگٹن یورپی اتحادیوں پر دفاعی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔
صدر ٹرمپ متعدد بار نیٹو کے بعض رکن ممالک کو ’فری رائیڈرز‘ قرار دے چکے ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ نیٹو کا آئندہ اجلاس تنظیم کی تاریخ کے اہم ترین اجلاسوں میں سے ایک ہوگا کیونکہ کئی اہم معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔
ادھر نیٹو میں امریکی سفیر میتھیو وائٹیکر نے اس ہفتے کہا کہ صدر ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ اتحادی ممالک کو دفاع پر جی ڈی پی کا 5 فیصد خرچ کرنے کے اپنے عزم کو پورا کرنا ہوگا۔
اگرچہ وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے اگلی پارلیمنٹ کے دوران دفاعی اخراجات کو 3 فیصد تک بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔
تاہم جان ہیلی کے استعفے نے واضح کر دیا ہے کہ موجودہ حکمتِ عملی کے تحت برطانیہ اپنے اہم اتحادیوں سے پیچھے رہ سکتا ہے۔








