بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مجھے نہیں لگتا حکومتی اقدامات سے چیزیں ٹھیک ہوں گی، عارف حبیب

نامور سرمایہ کار عارف حبیب (Arif Habib)کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ حکومتی اقدامات سے فوری طور پر معاشی صورتحال بہتر ہو جائے گی یا ملک میں خاطر خواہ سرمایہ کاری شروع ہو سکے گی۔

میڈیا سے بجٹ کے بعد معیشت کے مکمل احوال سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے عارف حبیب کا کہنا تھا کہ توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث سرمایہ کار پاکستان کا رخ نہیں کر رہے، جبکہ ٹیکس کی شرح بھی اب تک زیادہ ہے۔

انہوں نے سپر ٹیکس کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث روزگار کے مواقع بھی پیدا نہیں ہو رہے۔

عارف حبیب کے مطابق برآمدات میں اضافے کے لیے حکومت کو توانائی کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں مزید کمی کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس اس حوالے سے گنجائش موجود ہے، تاہم ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہو رہا، جس پر آئی ایم ایف بھی توجہ دلاتا رہا ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ حکومت نے بجٹ سازی کے دوران مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی اور تنخواہ دار طبقے اور برآمد کنندگان کو کچھ ریلیف بھی دیا، جبکہ آئی ایم ایف کو بھی اعتماد میں رکھا گیا۔

ان کے مطابق حکومت تعمیراتی شعبے کی معاونت کر رہی ہے، تاہم یہ سوال برقرار ہے کہ ملکی حالات میں بہتری کتنی تیزی سے آئے گی۔

دوسری جانب گل احمد ٹیکسٹائل ملز کے ڈائریکٹر زیاد بشیر نے کہا کہ حکومت موجودہ حالات میں جو کچھ کر سکتی تھی، وہ کر چکی ہے اور اس نے ملکی معیشت کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

زیاد بشیر نے نشاندہی کی کہ ویلیو ایڈیشن پر مناسب توجہ نہیں دی جا رہی، جبکہ ریلوے فریٹ کا حصہ 5 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق سڑکوں کی تعمیر پر توجہ دی گئی لیکن ریلوے نظام کو نظرانداز کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں:اسرائیل کا حزب اللّٰہ کے سینئر کمانڈر علی موسیٰ دقدوق کو شہید کرنے کا دعویٰ

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس شپنگ کے لیے مؤثر ڈائریکٹ پورٹ انفراسٹرکچر کی کمی ہے اور اگر بنیادی مسائل حل نہیں کیے گئے تو عالمی منڈی میں مسابقت کرنا مشکل ہوگا۔