اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پرویز الہٰی کی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوگیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بینچ دوبارہ سماعت کررہا ہے۔
سماعت کے آغاز میں عدالت نے سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہہم دیکھ رہے ہیں بار کے کافی صدور یہاں موجود ہیں۔
لطیف آفریدی نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی نظرثانی درخواستیں زیرالتوا ہیں، موجودہ سیاسی صورتحال بہت گھمبیر ہے، سپریم کورٹ ایک آئینی عدالت ہے، ہمارے سابق صدور نے میٹنگ کی ہے۔
لطیف آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کی نظرثانی درخواست بھی زیرالتوا ہے، درخواست سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے فل کورٹ تشکیل دی جائے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس کیس کا براہ راست تعلق ہمارے فیصلے سے ہے، ہم چاہیں گے فریقین ہماری رہنمائی کریں۔
تاہم ایڈووکیٹ علی ظفر نے سابق صدور سپریم کورٹ بار کے مطالبے پراعتراض اٹھا دیا۔
سیکیورٹی سخت
اس حوالے سے ایک بیان میں، اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے کہا کہ صرف مدعا علیہ جماعتوں کے رہنماؤں کو سپریم کورٹ انتظامیہ کی اجازت سے عدالت کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔
اسلام آباد کیپٹل پولیس کے رابطہ افسر کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ میں داخلے کے لیے پارٹی رہنماؤں کی جانب سے لسٹیں مہیا کی گئی ہی، فریقین کے رہنماؤں کو سپریم کورٹ انتظامیہ کی اجازت سے کورٹ روم اور سپریم کورٹ میں داخلہ دیا جائے گا۔
پولیس نے کہا کہ ریڈ زون بشمول سپریم کورٹ کے اردگرد ہرگز کسی جلسے، جلوس اور اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی، ٹریفک کی روانی کو بحال رکھنے کےلیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کے مثبت عالمی تشخص کے لیے ضروری ہے کہ تمام عمل کو پر امن اور منظم رکھا جائے۔
کیس کا پس منظر
یاد رہے کہ 22 جولائی کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے سلسلے میں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے مسلم لیگ (ق) کے اراکین کی جانب سے چوہدری پرویز الہٰی کے حق میں ڈالے گئے 10 ووٹس مسترد کردیے تھے۔
انہوں نے رولنگ دی تھی کہ مذکورہ ووٹس پارٹی سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈالے گئے، جس کے نتیجے میں حمزہ شہباز ایک مرتبہ پھر وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے تھے۔
پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں غیر متوقع موڑ آنے کے بعد سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری آدھی رات کو مسلم لیگ (ق) کی درخواست وصول کرنے کے لیے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی ہدایت پر کھول دیے گئے تھے۔
جس کے بعد چوہدری پرویز الہٰی نے مسلم لیگ (ق) کے وکیل عامر سعید راں کے توسط سے ڈپٹی اسپیکر کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا تھا۔
مذکورہ درخواست پر 23 جولائی کو سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سماعت کرتے ہوئے حمزہ شہباز کو پیر تک بطور ٹرسٹی وزیر اعلیٰ کام کرنے کی ہدایت کی تھی۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے، تاہم عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کردی۔
سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد جاری حکم نامے میں کہا تھا کہ حمزہ شہباز آئین اور قانون کے مطابق کام کریں گے اور بطور وزیر اعلیٰ وہ اختیارات استعمال نہیں کریں گے، جس سے انہیں سیاسی فائدہ ہوگا۔









