بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ڈی پی او حافظ آباد کوعہدے سے ہٹا کر پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی میں تعینات کر دیا گیا

 حافظ آباد کے ضلعی پولیس افسر (DPO) کامران حمید کو عہدے سے ہٹا کر پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک مقامی رکنِ صوبائی اسمبلی کے ساتھ مبینہ تنازع کے بعد سامنے آیا، جس کی انکوائری پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس کی ہدایت پر مکمل کی گئی۔

ذرائع کے مطابق معاملہ اس وقت شروع ہوا جب حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک رکنِ اسمبلی اپنے بیٹے اور چند مقامی افراد کے ہمراہ ڈی پی او آفس میں شہری مسائل کے حل کے لیے ملاقات کے لیے آئے۔ ملاقات کے دوران صورتحال اس وقت کشیدہ ہوئی جب رکنِ اسمبلی کے بیٹے نے دفتر کے اندر موبائل فون پر گفتگو کرتے ہوئے داخلہ لیا، جس پر اسے والد کی جانب سے سرزنش کی گئی۔

اسی دوران نوجوان مبینہ طور پر ڈی پی او کے ریسٹنگ روم میں چلا گیا اور واپسی پر دفتر کے واش روم کے استعمال پر تنازع کھڑا ہوگیا۔ اس معاملے پر ڈی پی او کامران حمید نے سوال اٹھایا کہ ان کے دفتر کے نجی حصے میں بغیر اجازت داخلہ کیوں کیا گیا، جس پر دونوں جانب سے تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رکنِ اسمبلی نے صورتحال کو قابو کرنے کی کوشش کی تاہم ماحول پہلے ہی کشیدہ ہو چکا تھا۔ ملاقات کے بعد معاملہ مقامی سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث آ گیا اور سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے سے متعلق پوسٹس وائرل ہو گئیں۔

بعد ازاں معاملہ پنجاب کے اعلیٰ حکام تک پہنچا، جہاں آئی جی پنجاب نے دونوں فریقین کے مؤقف کی سماعت کی اور ایک انکوائری رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو ارسال کی۔ رپورٹ میں واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

مزیدپڑھیں:سعودی یونیورسٹی کے محققین نے کینسر کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی تیار کرلی

ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ کی روشنی میں وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈی پی او کامران حمید کو عہدے سے ہٹا کر پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کی جگہ نئی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

ادھر واقعے کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ بعض افراد نے پولیس افسر کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کچھ نے اسے انتظامی امور میں سیاسی مداخلت قرار دیا۔

دوسری جانب پولیس کے بعض سینئر افسران نے کامران حمید کے حق میں مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ایک نوجوان افسر کے ساتھ ہونے والا سلوک مناسب نہیں تھا اور اس کی پیشہ ورانہ ساکھ کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر ذمہ داری دی جانی چاہیے۔

سوشل میڈیا پر یہ معاملہ تاحال زیر بحث ہے، جہاں صارفین اسے پولیس اور عوامی نمائندوں کے تعلقات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔