اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری کی رولنگ کے خلاف چودھری پرویز الٰہی کی آئینی درخواست پر سماعت کے دوران پرویز الٰہی کے وکیل نے کہا کہ فل کورٹ بنچ تشکیل دینا چیف جسٹس کی صوابدید ہوتا ہے مگر گزشتہ برسوں میں فل کورٹ تشکیل دینے کی 15 درخواستیں مسترد کی گئیں ۔ دوران سماعت عدالت نے وکیل علی ظفر کو عدالتی نظائر دینے سے روک دیا۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ٖ آف پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری کی رولنگ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کی درخواست پر سماعت کی ، عدالت نے چودھری پرویز الٰہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کو عدالتی نظائر دینے سے روک دیا اور ریمارکس دیے کہ ہم آپ کے کیس کو میرٹس پر نہیں سن رہے ،آپ یہ بتائیں کہ ہمیں فل کورٹ بنانا چاہئے یا نہیں ۔
بیرسٹر علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے نتائج سنانے کے بعد چودھری شجاعت کا خط لہرایا، خط لہرانے کے بعد عدالتی فیصلے کا حوالہ دے کر ووٹ مسترد کیے گئے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈپٹی سپیکر نے مختصر رولنگ میں الیکشن کمیشن فیصلےکاحوالہ نہیں دیا، ڈپٹی سپیکر نے رولنگ سے متعلق تفصیلی وجوہات میں الیکشن کمیشن فیصلےکا حوالہ دیا۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے آرٹیکل 63 اے پر بھی انحصارکیا، پارٹی سربراہ کوپارلیمانی پارٹی کی ہدایات کےمطابق ڈیکلریشن دینی ہوتی ہے، آرٹیکل 63 اےپرعدالت پہلےہی رائےدےچکی ہے۔ آرٹیکل 63 اے بڑا کلیئر ہے، پارلیمانی پارٹی کی ہدایت تسلیم کرناہی جمہوریت ہے، پارٹی اجلاس میں مختلف رائے دینے والا بھی فیصلے کا پابند ہوتا ہے، سیاسی جماعت کےسربراہ کی آمریت کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں، آرٹیکل 63 اےاور اس کی عدالتی تشریح بالکل واضح اورغیرمبہم ہے، ڈپٹی سپیکرنے(ق)لیگ کے 10ووٹ پرویزالہٰی کےکھاتےسےنکال دیئے، حمزہ شہبازکو 179 اورپرویزالہٰی کو 186 ووٹ ملے، 10ووٹ شمارنہ کرنےپرحمزہ شہبازکووزیراعلیٰ ڈکلیئرکردیا گیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مقدمہ کے میرٹ پر دلائل نہ دیں، فل کورٹ کی تشکیل پر دلائل دیں، دوسری سائیڈ نے فل کورٹ پردلائل دیئےہیں، آپ بتائیں فل کورٹ کیوں نہ بنایاجائے، آپ دوسری سائیڈ کی استدعاکوکیسےمستردکریں گے؟۔ فل کورٹ نہ بنانےسےعدالت کادیگرمقدمات پرفوکس رہا، مقدمات پرفوکس ہونےسےہی زیرالتواکیسزکم ہورہےہیں۔









