سود(Intrest) سے پاک مالیاتی نظام کی جانب منتقلی مرحلہ وارہوگی، حکومت نے جامع حکمتِ عملی جاری کر دی۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق 2027 کے بعد کے مالیاتی نظام کا عملی نفاذ کئی اہم چیلنجز و خطرات سے نمٹنے پر منحصر، منتقلی بتدریج، ہموار اور کسی بڑے تعطل کے بغیر ہوگی، تاکہ مالیاتی نظام کا استحکام برقرار رہے ۔

روایتی بینکوں کو اسلامی مالیات کی تربیت کیلئے متعدد پروگرام شروع ، ان اقدامات سے منتقلی مزید ہموار ہوگی ، اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی بھی 2027 کے بعد شریعت کے مطابق مرتب ونافذ کی جائیگی۔
موجودہ سرکاری قرضوں کی شرعی مالیاتی ذرائع میں تبدیلی سب سے بڑا چیلنج ، اثاثہ رجسٹری کمپنی قیام و سکوک اجرا حکمتِ عملی کا حصہ ، دسمبر 2027تک وفاقی و صوبائی قوانین میں ترامیم بھی انتہائی اہم ہونگی ۔
وفاقی شرعی عدالت کے 2022 کے فیصلے اور آئین میں 26ویں ترمیم کے تحت 2027 کے بعد پاکستان میں سود سے پاک مالیاتی نظام نافذ کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے، تاہم وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ سود سے پاک مالیاتی نظام کی جانب منتقلی مرحلہ وار اور بتدریج ہوگی تاکہ کسی بڑے تعطل سے بچا جا سکے، کیونکہ ایسا تعطل معیشت پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ “2027 کے بعد پاکستان کے مالیاتی نظام سے متعلق حکمتِ عملی” میں کہا گیا ہے کہ اس حکمتِ عملی کے تحت 2027 کے بعد کے مالیاتی نظام کا عملی نفاذ کئی اہم چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے پر منحصر ہے۔








