اسلام آباد(نیوزڈیسک) قومی اسمبلی میں پائیدار ترقی کے اہداف پر قائم پارلیمانی ٹاسک فورس 27 اور 28 جولائی کو اسلام آباد میں ایک قومی اجلاس کا انعقاد کر رہی ہے، جس میں پاکستان کو درپیش ماحولیاتی انحطاط، بڑھتی ہوئی غربت، خوراک کی کمی، توانائی کا بحران اور سیلاب جسے چیلنجز خصوصی طور پر کوروناکی وبا کے بعد پیش آنے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غور کیا جائے گاان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پارلیمنٹ نے اس قومی اجلاس کا اہتمام کیا ہے تاکہ بنیادی سطح پر مسائل کے حل کے لیے ترجیحات متعین کی جا سکیں۔
تقریب کا افتتاح سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کریں گے جبکہ وفاقی وزراء، وفاقی، صوبائی اور کشمیر اور گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلوں کے اراکین کے علاوہ کانفرنس میں سینئر سرکاری افسران، نجی اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندے، دانشور، میڈیا اور مختلف ممالک کے سفارتی نمائندے شرکت کریں گے۔
اس قومی اجلاس میں ملک بھر سے شرکت کرنے والے تمام اسٹیک ہولڈرز پاکستان کی پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول لیے ایک قابل عمل قومی حکمت عملی وصع کرنے کے لیے اپنی اراء اور تجاویز دیں گے۔
اس اجلاس میں SDGs کے اہداف کے حصول کے موجودہ پیش رفت اور طریقہ کار پر بھی غور کیا جائے گا کیونکہ SDGs کے حصول کے لیے صرف آٹھ سال باقی ہیں۔ پاکستان کو درپیش بے شمار مسائل کے تناظر میں یہ محسوس کیا گیا کہ SDGs کو قومی زاویے سے جانچ کر ان اھداف کے حصول کے کیے ترجیحات مرتب دی جائیں۔
اس اجلاس ایک جامع اور پائیدار انداز میں عالمی اہداف کے حصول کو دوبارہ ڈیزائن کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ قومی اجلاس کے اہم نتائج میں ایک قومی فریم ورک کی تشکیل بھئ شامل ہو گئی جو قومی سطح پر اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے ایک روڈ میپ فراھم کرے گا۔
اس قومی اجلاس کا انعقاد یورپی یونین کے پراجیکٹ مستحکم پارلیمان ، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمانی سروسز اور جرمن ایجنسی فار انٹرنیشنل کوآپریشن (GIZ) کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔
کورناوبا کے بعدکے چیلنجز پر غور کیلئے پارلیمانی ٹاسک فورس کے زیر اہتمام دوروزہ قومی اجلاس کل شروع ہوگا








