وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ(Shiza Fatima Khawaja) نے کہا ہے کہ نئے ٹیلی کام بل کے تحت کسی بھی شہری کی ذاتی زمین یا جائیداد پر زبردستی قبضہ نہیں کیا جائے گا، بل کا بنیادی مقصد ملک بھر میں تیز رفتار اور معیاری انٹرنیٹ کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شزا فاطمہ نے کہا کہ ٹیلی کام بل پر عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری تھا، کیونکہ پرانا قانون موجودہ دور کی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ضروریات سے ہم آہنگ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ ٹیلی کام بل تقریباً چھ ماہ تک قومی اسمبلی میں زیر غور رہا، جبکہ سینیٹ میں بھی اسے مزید مشاورت کے لیے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا، جو جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق قومی اسمبلی نے بل کو 6 ترامیم کے ساتھ منظور کیا۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں زیرِ زمین پانی کا بحران سنگین، بحالی کے لیے 2030 کے اہداف مقرر
شزہ فاطمہ نے واضح کیا کہ بل کا مقصد ان ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مسائل کا حل نکالنا ہے جو ٹیلی کام کمپنیوں سے معاہدے کرنے کے باوجود بعد میں رکاوٹیں کھڑی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شہری اپنی نجی پراپرٹی پر ٹیلی کام انفرا اسٹرکچر نصب کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہتا تو یہ اس کا قانونی حق ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیلی کام بل کے حوالے سے مجھ پر اور سیکرٹری آئی ٹی کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے، جس پر وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ ان الزامات کی تحقیقات کروائی جائے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت اور متعلقہ حکام اپنے خلاف لگائے گئے مالی الزامات پر قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں، جبکہ نجی جائیدادوں سے متعلق قواعد و ضوابط بھی واضح کیے جائیں گے تاکہ کسی شہری کے حقوق متاثر نہ ہوں۔








