بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بلی کی فضلے سے تیارہونیوالی دنیاکی مہنگی ترین کافی ،یہ کیسے تیارہوتی ہے

دنیا کی مہنگی ترین کافی کا تعلق مارگلہ کی پہاڑیوں سے، سیویٹ کیٹ کے فضلے سے تیار ہونے والی کافی کی دلچسپ کہانی

دنیا میں کچھ ایسی چیزیں بھی موجود ہیں جن کی قیمت سن کر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہی میں سے ایک دنیا کی مہنگی ترین اور متنازعہ کافی “کاپی لوواک” (Kopi Luwak) ہے، جس کا ایک کپ ہزاروں روپے میں فروخت ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کافی کی تیاری کا آغاز ایک جانور کے فضلے سے ہوتا ہے۔

کاپی لوواک کافی کی کہانی کا مرکزی کردار سیویٹ کیٹ (Civet Cat) نامی جانور ہے، جو بظاہر عام بلی جیسا نظر آتا ہے، لیکن اس کے نظامِ ہضم سے گزرنے والے کافی کے بیج دنیا کی مہنگی ترین کافی تیار کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:وہاڑی میں 11 جولائی کو عام تعطیل کا اعلان

انڈونیشیا سمیت چند ممالک میں سیویٹ کیٹ کافی کے پکے ہوئے پھل کھاتی ہے۔ پھل کا گودا تو جانور کے جسم میں ہضم ہو جاتا ہے، لیکن کافی کے بیج مکمل طور پر ہضم نہیں ہوتے اور فضلے کے ساتھ خارج ہو جاتے ہیں۔ بعد ازاں ان بیجوں کو جمع کرکے صاف کیا جاتا ہے، مخصوص طریقے سے تیار کیا جاتا ہے اور پھر ان سے مہنگی کافی بنائی جاتی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں میں بھی سیویٹ کیٹ پائی جاتی ہے۔ اگرچہ یہاں کافی کے پودے موجود نہیں، اس لیے یہ جانور مقامی درختوں کے پتے، جنگلی پھل اور مختلف بیج کھا کر اپنی خوراک پوری کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سیویٹ کیٹ جنگلاتی نظام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ جنگلی پھل کھانے کے بعد ان کے بیج مختلف علاقوں تک پہنچاتی ہے، جس سے نئے پودوں اور درختوں کے اگنے میں مدد ملتی ہے۔

مارگلہ کی پہاڑیوں پر روزانہ بڑی تعداد میں لوگ سیر اور واک کے لیے آتے ہیں، تاہم بہت کم افراد کو معلوم ہے کہ وہ ایسے جانور کے مسکن میں موجود ہیں جس کا نام دنیا کی مہنگی ترین کافی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

جہاں کچھ کافی شوقین افراد کا کہنا ہے کہ کاپی لوواک ذائقے کے اعتبار سے دنیا کی بہترین کافیوں میں شامل ہے، وہیں جانوروں کے حقوق کی تنظیمیں اس کی تیاری کے طریقہ کار پر تنقید کرتی ہیں، جس کے باعث اسے دنیا کی متنازعہ کافیوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔