پاکستان نے جولائی کے وسط میں گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایک اور سپاٹ ایل این جی(LNG) کارگو خرید لیا ہے۔
سرکاری کمپنی پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے سب سے کم بولی دینے پر برٹش پیٹرولیم (بی پی) سنگاپور کو 1 لاکھ 40 ہزار مکعب میٹر ایل این جی کارگو کا ٹھیکہ دے دیا، جس کی ترسیل 15 اور 16 جولائی کو پورٹ قاسم کے پی جی پی سی ایل ٹرمینل پر کی جائے گی۔
پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے مطابق برٹش پیٹرولیم (بی پی) سنگاپور نے فی ایم ایم بی ٹی یو 18.2345 ڈالر کی کم ترین بولی دے کر تازہ اسپاٹ ایل این جی ٹینڈر حاصل کر لیا ہے۔ اس ٹینڈر کے لیے بین الاقوامی سپلائرز کی جانب سے مجموعی طور پر تین تکنیکی اور مالی طور پر موزوں بولیاں موصول ہوئیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق پیٹرو چائنا انٹرنیشنل نے فی ایم ایم بی ٹی یو 18.5991 ڈالر جبکہ ٹوٹل انرجیز نے 18.7200 ڈالر کی بولی دی، پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے قواعد کے مطابق سب سے کم بولی دینے پر بی پی سنگاپور کو کامیاب قرار دیا گیا۔
پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے 9 جولائی کو اسپاٹ ایل این جی کارگو کی خریداری کے لیے عالمی ٹریڈنگ کمپنیوں سے ٹینڈر طلب کیے تھے، بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ جمعہ دوپہر ڈھائی بجے تھی، جبکہ مالیاتی بولیاں جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد ساڑھے 3 بجے کھولی گئیں۔ ترمیم شدہ پی پی آر اے قواعد کے تحت کمپنی کو اسی روز رات 10 بجے تک کامیاب بولی دہندہ کو فیصلے سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔
مزیدپڑھیں:امریکا میں پہلی بار الیکٹرک ایئر ٹیکسی کے آزمائشی آپریشن کا آغاز
رپورٹ کے مطابق 11 جولائی کو ٹوٹل انرجیز کی جانب سے فراہم کیا جانے والا اسپاٹ ایل این جی کارگو بردار جہاز ایس کے ریزولیوٹ پورٹ قاسم پہنچنے والا ہے۔ اس سے قبل رواں سال ارادا، بی ڈبلیو ہیلیوس اور سی پیک میگیلن بھی پاکستان ایل این جی کارگو پہنچا چکے ہیں۔ بی پی سنگاپور کا کارگو موصول ہونے کے بعد رواں سال پاکستان کو اسپاٹ مارکیٹ سے ملنے والے ایل این جی کارگوز کی تعداد پانچ ہو جائے گی۔
دوسری جانب پاکستان قطر انرجی کے ساتھ طویل المدتی حکومتی معاہدے کے تحت بھی ایل این جی حاصل کر رہا ہے۔ اگرچہ فروری 2026 میں خطے میں شروع ہونے والی کشیدگی کے باعث ترسیل متاثر ہوئی، تاہم اب تک قطر سے 5 طویل المدتی کارگوز پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ یہ کارگوز برینٹ خام تیل کی قیمت کے 13.37 فیصد فارمولے کے تحت فراہم کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث ان کی قیمت اسپاٹ مارکیٹ سے خریدی جانے والی ایل این جی کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
بی پی سنگاپور کا کارگو پہنچنے کے بعد رواں سال پاکستان کی مجموعی ایل این جی درآمدات 10 کارگوز تک پہنچ جائیں گی۔








