بلوچستان حکومت(Balochistan Government) نے صوبے بھر میں نئے اضلاع اور ڈویژنز کے قیام کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
بلوچستان حکومت کے محکمہ بورڈ آف ریونیو نے صوبائی کابینہ کے فیصلوں کی روشنی میں صوبے بھر میں نئے اضلاع اور ڈویژنز کے قیام کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس نئی انتظامی تقسیم کے بعد بلوچستان میں ڈویژنز کی مجموعی تعداد 11 اور اضلاع کی تعداد 41 ہو گئی ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کو انتظامی بنیادوں پر دو الگ اضلاع میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جنہیں ‘ضلع کوئٹہ ایسٹ’ اور ‘ضلع کوئٹہ ویسٹ’ کا نام دیا گیا ہے۔
ضلع کوئٹہ ایسٹ کے انتظامی دائرہ کار میں سریاب، صدر اور سٹی سب ڈویژنز شامل ہوں گے، جبکہ ضلع کوئٹہ ویسٹ کے دائرہ کار میں کچلاک، بروری اور پنجپائی سب ڈویژنز کو شامل کیا گیا ہے۔ اب کوئٹہ ڈویژن 3 اضلاع پر مشتمل ہوگا کیونکہ ضلع مستونگ کو قلات ڈویژن سے الگ کر کے کوئٹہ ڈویژن کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ضلع پشین کو بھی انتظامی طور پر تقسیم کر کے دو نئے اضلاع ‘پشین’ اور ‘برشور’ بنا دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ‘پشین’ کے نام سے ایک نیا ڈویژن بھی قائم کیا گیا ہے جس میں پشین، برشور، قلعہ عبداللہ اور چمن کے اضلاع شامل ہوں گے۔
حکومت نے قلات ڈویژن کو ختم کر کے اس کی جگہ دو نئے ڈویژن ‘خضدار’ اور ‘لسبیلہ’ قائم کر دیے ہیں۔ وڈھ کو خضدار سے انتظامی طور پر الگ کر کے بلوچستان کا نیا ضلع بنا دیا گیا ہے۔
مزیدپڑھیں:ناروے میں ملازمت کے خواہشمند پاکستانی ہوشیار!
اب خضدار ڈویژن میں خضدار، قلات، سوراب اور ضلع وڈھ شامل ہوں گے، جبکہ لسبیلہ ڈویژن کی انتظامی حدود میں لسبیلہ، حب اور آواران کے اضلاع شامل ہوں گے۔
علاوہ ازیں، بلوچستان کے دو اہم اضلاع ڈیرہ بگٹی اور بارکھان کو بھی دو دو اضلاع میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ڈیرہ بگٹی کو ‘شمالی ڈیرہ بگٹی’ اور ‘جنوبی ڈیرہ بگٹی’ کے نام سے دو الگ اضلاع کا درجہ دے دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے تحت سبی ضلع کا نام تبدیل کر کے ‘سیوی’ رکھ دیا گیا ہے اور سیوی کے نام سے نیا ڈویژن بھی قائم کیا گیا ہے، جس میں ضلع سیوی، جنوبی ڈیرہ بگٹی اور ضلع کچھی شامل ہوں گے۔ اسی طرح ‘کوہ سلیمان’ کے نام سے بھی ایک نیا ڈویژن تشکیل دیا گیا ہے، جس کی حدود میں بارکھان، شمالی ڈیرہ بگٹی اور نیا ضلع ‘رکنی’ شامل ہیں۔








