ضلع خیبر سے پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو خط لکھ کر حلقہ پی کے 71 میں ان کے بھائی نوید آفریدی کی مبینہ سیاسی اور انتظامی مداخلت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خط لکھا ہے۔
عبدالغنی آفریدی نے وزیراعلیٰ کو لکھا گیا خط اپنے سوشل اکاؤنٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بھی شیئر کیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نوید آفریدی حلقے میں کھلی کچہریوں کا انعقاد اور ان کی سرپرستی کرتے ہیں، سرکاری محکموں کے افسران کو ان میں شرکت پر مجبور کیا جاتا ہے اور شرکت نہ کرنے والے افسران کو تبادلوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مزیدپڑھیں:اقوام متحدہ میں ایران کا پاکستان سے اظہارِ تشکر، سلامتی کونسل اجلاس پر شدید اعتراض
خط میں کہا گیا ہے کہ اس مبینہ مداخلت سے ایک منتخب عوامی نمائندے کے طور پر ان کا سیاسی وقار متاثر ہو رہا ہے، عبدالغنی آفریدی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ اس معاملے سے پہلے بھی متعدد بار وزیراعلیٰ کو آگاہ کر چکے ہیں، جبکہ صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کے ذریعے بھی شکایت پہنچائی گئی، تاہم کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی، انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور بعض سرکاری افسران کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
رکن صوبائی اسمبلی نے سہیل آفریدی سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ سیاسی و انتظامی مداخلت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کرائی جائیں اورپی ٹی آئی۔








