امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ(Rizwan Saeed Sheikh) نے امریکی بین الاقوامی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بینجمن بلیک سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ڈی ایف سی کے درمیان اقتصادی شراکت داری، سرمایہ کاری اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے پاکستان میں جاری اور ممکنہ سرمایہ کاری منصوبوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا، جبکہ باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے دونوں جانب سے اہم شعبوں میں فوکل پرسنز اور نکاتِ ارتکاز نامزد کرنے پر بھی بات چیت کی گئی۔
سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے ڈی ایف سی کی جانب سے پاکستان میں توانائی، انفراسٹرکچر، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور بندرگاہوں کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ شعبے پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں:فیفا ورلڈکپ 2026: اسپین فرانس کر ہرا کر فائنل میں پہنچ گیا
انہوں نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے اور حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
Glad to meet Mr. Benjamin Black, CEO US International Development Finance Corporation (DFC) @DFC_CEO; Discussed and identified areas of investment in Pakistan including energy, infrastructure, minerlas and ICT. Presented official FIFA World Cup 2026 soccer ball-Trionda- as a… pic.twitter.com/RdE5PxrXuH
— Amb. Rizwan Saeed Sheikh (@AmbRizSaeed) July 15, 2026
اس موقع پر سفیر پاکستان نے بینجمن بلیک کو فیفا ورلڈ کپ کے لیے پاکستان میں تیار کیا جانے والا آفیشل فٹ بال ٹرائیونڈا بطور تحفہ پیش کیا۔
سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے پاکستان میں تیار کردہ فٹ بال کا مسلسل انتخاب ملک کے لیے باعثِ فخر اور اطمینان ہے، جو پاکستانی صنعت اور معیار کی عالمی سطح پر پذیرائی کا مظہر ہے۔
ڈی ایف سی کے چیف ایگزیکٹو بینجمن بلیک نے ٹرائیونڈا کے معیار کو سراہتے ہوئے پاکستان کی مصنوعات کی عالمی سطح پر موجودگی کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے شراکت داری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سفیر پاکستان نے اس موقع پر کہا کہ پاک امریکہ اقتصادی شراکت داری دونوں ممالک کے درمیان دیرپا تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔









