امریکی ڈالرآج بھی دباؤ کا شکار رہا، جس کی بڑی وجہ امریکا میں توقعات سے کم آنے والے مہنگائی کے اعدادوشمار ہیں۔ سرمایہ کاروں نے ان اعدادوشمار کے بعد یہ اندازہ لگانا شروع کر دیا ہے کہ فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے قریبی مدت میں شرح سود بڑھانے کے امکانات کم ہو گئے ہیں، تاہم خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مستقبل میں مہنگائی کے خدشات کو برقرار رکھا ہے۔
کرنسی مارکیٹ میں ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 162.08 ین پر آ گیا، جبکہ یورو اور برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ یورو 0.1 فیصد اضافے کے بعد 1.1433 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3401 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔
دوسری جانب آسٹریلوی ڈالر 0.6983 ڈالر کی سطح پر مستحکم رہا، جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچتے ہوئے 0.5819 ڈالر پر ریکارڈ کیا گیا۔
چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی مضبوطی کو ظاہر کرنے والا ڈالر انڈیکس (Dollar Index) 0.35 فیصد کمی کے بعد 100.81 کی سطح پر آ گیا، جو تقریباً دو ہفتوں میں اس کی سب سے بڑی یومیہ گراوٹ ہے۔
مزیدپڑھیں:آج سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا، قبلے کی درست سمت معلوم کرنے کا نادر موقع
امریکی اعدادوشمار کے مطابق جون میں سالانہ مہنگائی کی شرح کم ہو کر 3.5 فیصد رہ گئی، جبکہ ماہانہ بنیادوں پر کنزیومر پرائس انڈیکس (Consumer Price Index) میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اپریل 2020 کے بعد پہلی ماہانہ کمی ہے۔ ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں کمی نے مہنگائی میں کمی میں اہم کردار ادا کیا۔
مہنگائی کے نرم اعدادوشمار کے بعد امریکی بانڈز کی ییلڈ (Bond Yields) میں بھی کمی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے جولائی میں شرح سود بڑھانے کے امکانات مزید کم ہو گئے ہیں۔
تاہم مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات کو برقرار رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں مسلسل بلند رہیں تو فیڈرل ریزرو مستقبل میں ایک بار پھر سخت مالیاتی پالیسی اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
سرمایہ کار اب امریکا کے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (Producer Price Index) کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں، جن سے مہنگائی کے مستقبل کے رجحان اور فیڈرل ریزرو کے آئندہ شرح سود فیصلوں کے بارے میں مزید واضح اشارے ملنے کی توقع ہے۔









