وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ (Ata Tarar)نے قومی اسمبلی اجلاس سے قبل پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران سے ملاقات کی اور قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر معذرت کی۔ ملاقات میں معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا گیا۔
ملاقات کے موقع پر شازیہ مری، قادر پٹیل، سائرہ افضل تارڑ اور شرمیلا فاروقی بھی موجود تھیں۔ عطا اللہ تارڑ اور سحر کامران نے پارلیمانی روایات اور باہمی احترام کو مقدم رکھتے ہوئے تنازع ختم کرنے پر اتفاق کیا۔ یوں قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد پیدا ہونے والا معاملہ معذرت کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔
واضح رہے کہ21 جولائی 2026 کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور پیپلز پارٹی کی رکن کمیٹی سحر کامران کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا، جس کے بعد سحر کامران احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کر گئی تھیں۔
مزیدپڑھیں:بجلی صارفین کیلیے بُری خبر؛ 41 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان
🚨کمیٹی اجلاس میں عطا تارڑ اور سحر کامران میں تلخ جملوں کا تبادلہ.. سحر کامران کا واک آؤٹ، عطا تارڑ کا بھی احتجاج ریکارڈ..
سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد سحر کامران نے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کر دیا۔ سحر کامران نے کہا، “آپ وزیر ہیں اور اونچی آواز میں بات کر… pic.twitter.com/DtvQQYXRiC— Mehwish Qamas Khan (@MehwishQamas) July 21, 2026
اجلاس کے دوران سحر کامران نے عطا اللہ تارڑ کے اونچی آواز میں بات کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ وزیر ہیں اور اونچی آواز میں بات کر رہے ہیں، میری بے عزتی ہوئی ہے اور میں اس پر سمجھوتا نہیں کروں گی۔
اس پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک رکن نے کمیٹی کو ہائی جیک کر رکھا ہے، اگر ریکارڈ نکال لیا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ ان کے دور میں کتنی بھرتیاں ہوئیں۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ آنکھیں دکھانا روایت بن گیا ہے، ایک رکن کا پوری کمیٹی پر حاوی ہونا قابل قبول نہیں، میرا بھی احتجاج ریکارڈ کیا جائے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی کے باعث اجلاس میں کچھ دیر کشیدگی رہی۔ سحر کامران کے واک آؤٹ کے بعد کمیٹی کا اجلاس جاری رہا۔









