بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایک ہی کمپنی کے اسٹاک یا شیئرز میں ساری جمع پونجی لگا دینا خطرناک کیوں ہے؟

سرمایہ کاری(Investment) کی دنیا میں ایک انتہائی مشہور اور پرانی کہاوت ہے کہ اپنے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہ رکھیں۔ اس کی وجہ بالکل سادہ اور واضح ہے کیونکہ انڈے بہت نازک ہوتے ہیں اور ٹوکری گرنے کی صورت میں سب کے سب ایک ساتھ ٹوٹ سکتے ہیں۔ یہی اصول شیئر مارکیٹ اور اسٹاکس میں رقم لگانے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

عام طور پر جب کسی عام شخص کے پاس کچھ اضافی رقم آتی ہے تو وہ کسی ایسی کمپنی میں سارا پیسہ لگانے کا سوچتا ہے جس کے بارے میں اسے لگتا ہے کہ وہ بہت منافع دے گی۔ لیکن مالیاتی ماہرین اور سرٹیفائیڈ فائنینشل پلانرز اس عمل کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہیں۔

امریکی ریاست ٹیکساس میں واقع واچ مین گروپ سے تعلق رکھنے والے سرٹیفائیڈ فائنینشل پلانر اینڈریو ہرزوگ اس خطرے کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کسی ایک اسٹاک میں پیسہ لگانا بنیادی طور پر کوئی بری بات نہیں ہے، لیکن اصل مسئلہ مرکزیت کے خطرے یعنی ’کنسنٹریشن رسک‘ کا ہے، جس کا مطلب ہے کہ آپ نے اپنی کُل دولت کا ایک بڑا حصہ صرف ایک کمپنی اور اس کے مستقبل سے جوڑ دیا ہے۔

اینڈریو ہرزوگ نے برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایک کمپنی کے مستقبل کی پیش گوئی کرنا ایک بڑے پورٹ فولیو کے مقابلے میں انتہائی مشکل کام ہوتا ہے۔

انہوں نے مشہور انڈیکس فنڈز کے بانی جان بوگل کا قول نقل کرتے ہوئے کہا کہ گھاس کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ پورا گھاس کا ڈھیر ہی خرید لیں۔

مزیدپڑھیں:امریکا سے 10 ارب ڈالر کے حصول کی کوششیں تیز

کسی ایک شیئر میں سارا پیسہ لگانے سے انسان متعدد ان دیکھے خطرات کی زد میں آ جاتا ہے۔ پنسلوانیا کے واشنگٹن فیملی ویلتھ کے ماہر جو پِسچور کا کہنا ہے کہ ایک کمپنی میں زبردست صلاحیت ہو سکتی ہے، لیکن اس کی کارکردگی انتظامی تبدیلیوں، سرکاری قوانین، سخت مقابلے، قانونی مقدمات، مصنوعات کے مسائل یا مارکیٹ کی عمومی تبدیلیوں سے کسی بھی وقت متاثر ہو سکتی ہے۔

اوہائیو کے ہارویسٹ فائنینشل ایڈوائزرز کی مونیکا ڈوئیر اس خطرے کو پانچ اہم حصوں میں تقسیم کرتی ہیں جن میں قیادت کے مسائل، مصنوعات کا مقابلہ، قانونی اور سرکاری تبدیلیاں، قیمتوں میں شدید اتارے چڑھاؤ اور مکمل تباہی کا خطرہ شامل ہیں۔

مونیکا ڈوئیر بتاتی ہیں کہ کورونا وائرس جیسی وبا یا مارکیٹ میں اچانک آنے والی شدید مندی کے دوران ایک منافع بخش کمپنی بھی اچانک بند ہو سکتی ہے، اور اگر وہ دیوالیہ ہو جائے تو آپ کی تمام جمع پونجی ختم ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ تاریخی طور پر انران نامی بڑی امریکی کمپنی کے دیوالیہ ہونے پر سرمایہ کاروں کے اربوں ڈالر ڈوب گئے تھے۔

کینساس سٹی کی فائنینشل ایڈوائزر لیسا کلیمینٹس کا ماننا ہے کہ وقت کا بھی اس معاملے میں بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ اگر کسی ایک کمپنی کے شیئر کی قیمت میں شدید اتارے چڑھاؤ آ رہا ہو اور ٹھیک اسی وقت آپ کو اپنے اخراجات کے لیے رقم نکالنے کی ضرورت پڑ جائے تو آپ کو بڑا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انفرادی شیئرز بالکل نہیں خریدنے چاہئیں۔ فئیر فیلڈ کے سینئر ویلتھ ایڈوائزر بل شافرانسکی ایک درمیانی راہ تجویز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر آپ اس ایک کمپنی کے شیئر خریدتے بھی ہیں، لیکن اسے ایک بڑے اور متنوع پورٹ فولیو یا فنڈز کے ساتھ بطور ایک چھوٹا حصہ رکھتے ہیں، تو اس سے آپ کا مجموعی خطرہ کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ماہرین ایک اور اہم خطرے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں جسے اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں، اور وہ ہے آپ کی اپنی ملازمت۔

اگر آپ کسی ایسی کمپنی میں کام کرتے ہیں جو اسٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ ہے تو آپ کی آمدنی پہلے ہی اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اس لیے اسی کمپنی کے شیئرز میں مزید تمام پیسہ لگا دینا خطرے کو دگنا کر دیتا ہے۔

مونیکا ڈوئیر کے مطابق اپنے رسک کو کم کرنے کے لیے کم از کم 19 سے 20 مختلف کمپنیوں میں رقم تقسیم کرنا ایک اچھا معیار ہے، تاکہ آپ کا پیسہ محفوظ رہے اور کسی ایک کمپنی کے ڈوبنے سے آپ کا پورا مالی مستقبل تباہ نہ ہو۔