بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وفاقی آئینی عدالت کا عوامی مقاصد کیلئے لینڈ ایکوزیشن پر بڑا فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت نے عوامی مقاصد کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے سے متعلق اہم فیصلہ سنا دیا۔ سپریم کورٹ سمیت پشاور اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیدیئے۔

عدالت نے قرار دیا کہ لینڈ ایکوزیشن کے وقت معاوضہ وصول کرنے والے مالکان بعد میں بڑھائی گئی قیمت کے حقدار نہیں۔ 45 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان نے تحریر کیا، جسٹس ارشد حسین نے اضافی نوٹ تحریر کیا جبکہ جسٹس علی باقر نجفی نے فیصلے سے اتفاق کیا۔ وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم کرتے ہوئے پشاور اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے بھی کالعدم قرار دے دیے۔

عدالت نے قرار دیا کہ اراضی کے حصول کے وقت معاوضہ وصول کرنے والے مالکان بعد میں بڑھائی گئی قیمت کے حقدار نہیں رہتے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اراضی کے جبری حصول کے ساتھ قانون کے مطابق منصفانہ معاوضے کی ادائیگی ضروری ہے۔

تمام زمین مالکان کو یکساں معاوضہ دینا مقننہ کی ذمہ داری ہے جبکہ عدالت کا کام قانون پر عمل درآمد کروانا ہے۔وفاقی آئینی عدالت کے مطابق 1894 کے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت مختلف عوامی مقاصد کے لیے اراضی حاصل کی گئی۔ یہ زمین دفاعی منصوبوں، تعلیمی اداروں، گرڈ اسٹیشنز اور موٹرویز سمیت مختلف منصوبوں کے لیے استعمال ہوئی۔

مزید پڑھیں:سیلابی پانی نے تباہی مچا دی، گلیشیئرپھٹنے سے فصلوں، مکانات کو شدید نقصان، دریاؤں میں طغیانی

مختلف اراضی مالکان نے معاوضہ بڑھانے کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا۔ معاوضہ بڑھنے کے بعد پہلے معاوضہ وصول کرنے والے مالکان نے بھی اضافی ادائیگی کے لیے مقدمات دائر کیے، جن پر ہائیکورٹس نے اضافی ادائیگیوں کے حق میں فیصلے دیے تھے۔