نیپال (Nepal)کے سیلابی پانی میں ڈوب کر مرنے والوں کی لاشیں دریاؤں اور ندیوں میں بہہ کر بھارت پہنچ گئیں، جنہیں دیکھ کر لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق نیپال میں آنے والی قدرتی آفت نے سرحدی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تقریباً 3 کلومیٹر طویل سُستا جھولا پل جو کبھی پڑوسی ممالک کے سیاحوں سے بھرا رہتا تھا، آج خوف کے سائے میں ہے۔
پانی کی سطح کم ہونے کے باوجود نارائنی ندی کا منظر اتنا ہولناک ہے کہ لوگ اس کے کنارے جانے سے بھی گھبرا رہے ہیں۔
نیپال کے دریاؤں سے لاشیں بہہ کر بھارت پہنچ گئیں، دریا کنارے کھڑے لوگ خوفزدہ ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے، نیپال میں آنے والے تباہ کن اچانک سیلاب کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سیلاب میں بہنے والے 7 افراد کی لاشیں سرحد پار بھارت میں دریاؤں سے برآمد ہوئی ہیں۔

ندی میں پانی کی سطح کم ہونے کے بعد وہاں موجود لوگ پل سے گزرنے والے بہتے پانی کے تیز بہاؤ کو دیکھ رہے تھے، اسی دوران ان کی نظر لاشوں پر پڑی، جسے دیکھ کر ان میں دہشت پھیل گئی اور لوگ فوری طور پر واپس جانے لگے۔
بھارتی حکام کے مطابق لاشیں ریاست اتر پردیش کے مہاراج گنج اور کشی نگر اضلاع میں دریاؤں سے ملی ہیں، مہاراج گنج میں جمعرات کو چار نامعلوم لاشیں برآمد ہوئیں، جبکہ مزید 3 لاشیں کشی نگر میں ملیں، متعلقہ حکام مرنے والوں کی شناخت کی کوشش کر رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج استنبول میں ہوگا
نیپالی میڈیا کے مطابق برآمد ہونے والی 7 لاشوں میں 5 خواتین اور دو مرد شامل ہیں، بھارتی سرحدی فورس کے اہلکاروں نے دریا کی نگرانی کے دوران لاشیں بہتی دیکھیں، جس کے بعد انہیں ریسکیو ٹیموں کی مدد سے نکالا گیا۔
بھارت میں تقریباً 200 کلومیٹر تک پھیلے تباہی کے آثار اور 7 لاشوں کی برآمدگی نے واضح کر دیا ہے کہ یہ صرف نیپال کا سیلاب نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات اب سرحد پار بھارت تک پہنچ چکے ہیں۔ دونوں ممالک میں لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے اور دریاؤں کے زیریں علاقوں میں بھی سرچ آپریشن کیے جا رہے ہیں۔









