بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سعودی عرب میں پاکستانی ملازمین کو کون سی مراعات دی جائیں گی

 سعودی عرب(Saudi Arabia) میں کام کرنے والے پاکستانی ملازمین کے لیے ملازمت کے اختتام پر ملنے والی مراعات کے حوالے سے اہم معلومات جاری کردی گئی ہیں۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ اسلام آباد (بی ای او ای) کے مطابق سعودی عرب میں ملازمت کے اختتام پر پہلے 5 سال تک سروس کے لیے ہر سال نصف ماہ کی تنخواہ کے برابر مراعات دی جاتی ہیں، جبکہ اس کے بعد ملازم ہر سال ایک مکمل ماہ کی تنخواہ کے برابر مراعات کا حق دار ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر کوئی ملازم 2 سے 5 سال کی مدت ملازمت مکمل کرتا ہے تو اسے ہر سال کے حساب سے ایک تہائی ماہ کی تنخواہ کے برابر مراعات دی جاتی ہیں، جبکہ 5 سے 10 سال تک ملازمت مکمل کرنے والے ملازمین کو ہر سال دو تہائی ماہ کی تنخواہ کے برابر مراعات ملتی ہیں۔


بیورو آف امیگریشن نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی ملازم کو آجر یا کفیل کی جانب سے غلط کارروائی کے باعث ملازمت سے فارغ کیا جائے تو قانون کے مطابق اسے ملازمت کے اختتام پر مکمل مراعات دی جائیں گی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں کسی بھی غیرملکی کے لیے ملازمت سے متعلق قوانین بالکل واضح ہیں، اس کا کفیل اگر وقت پر تنخواہ نہ دے یا معاہدے سے ہٹ کر کام کروائے تو ملازم بعض حالات میں فوری طور پر ملازمت چھوڑ سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد PCB کا ہنگامی بنیادوں پر رضوان، امام کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق سعودی عرب میں ملازمت کا معاہدہ اس وقت ختم کیا جاسکتا ہے جب معاہدے کی مدت پوری ہوجائے۔

اس کے علاوہ کاروباری سرگرمی مستقل طور پر بند کردی جائے یا ملازم کی جانب سے دھوکہ دہی، جسمانی حملہ، راز افشا کرنے یا مسلسل فرائض انجام دینے سے انکار جیسی انضباطی وجوہات موجود ہوں۔