اسلام آباد (سٹاف رپورٹ) سماجی تنظیم ’’پتن ‘‘کی طرف سے کرائے گئے سروے میں پاکستان کے چاروں صوبوں میں نوے فیصد سے زیادہ آفات سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کی طرف سے آفات کے خطرے کی تشخیص، منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں ان سے کبھی مشاورت نہیں کی گئی اورجہاں تک آفات کے تخفیف آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے موافقت کا تعلق ہے ،وہاں ترقیاتی پالیسیوں میں کوئی ہم آہنگی موجود نہیں ہے۔
پتن کی طرف سے آفات کےحوالے سے سروے کرایاگیا،یہ سروے جو ’’ویو فرام فرنٹ ‘‘ پراجیکٹ کے تحت کیا گیا ، یہ ایک ایسا منصوبہ ہے ، جس کے تحت پاکستان کے ساتھ بیک وقت پانچ براعظموں کے 52 ممالک میں مختلف تنظیمیں کام کررہی ہیں ۔
نیشنل کوآرڈینیٹر پتن سرور باری نے مقامی ہوٹل میں منعقدہ دو روزہ’’ قومی ورکشاپ برائے تحفیف آفات ‘‘ میں سروے کی نمایاں خصوصیات پیش کیں۔
یہ سروے 20-2019 کے دوران پتن تنظیم کے ذریعے کیا گیا،جس میں چاروں صوبوں کے 15 اضلاع میں 1700 سے زائد گھرانوں، 150 این جی اوز اور مقامی حکومتوں کے 150 اہلکاروں سے انٹرویو کیے گئے۔ سروے کا سیمپل کمیونٹی کے 52 فیصد خواتین اور 48 فیصد مردوں پر مشتمل تھا۔
پاکستان کے چاروں صوبوں کے 15 اضلاع سے آفات سے متاثرہ علاقوں کے نمائندوں کے علاوہ سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن سیمی ایزدی، سینیٹر محترمہ فوزیہ ارشد، سینیٹ کی ذیلی کمیٹیوں برائے صحت، تعلیم نے شرکت کی ۔ اس کے علاوہ چیئرمین فیڈرل فلڈ کمیشن احمد کمال، ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 ایمرجنسی سروسز، ڈاکٹر رضوان نصیر، ڈائریکٹر جنرل میٹ آفس، صاحبزاد خان، ڈپٹی چیف پاکستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی، جاوید ربانی، ڈائریکٹر جنرل ایگری ریسرچ، انسٹیٹیوٹ فیصل آباد، محمد نواز خان میکن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے ، کے پی کے، یاد اللہ ، خان اور تھنک ٹینکس، یونیورسٹیوں اور مزدور رہنماؤں سے تعلق رکھنے والے اسکالرز نے شرکت کی ۔
سیمی ایزدی نے ورکشاپ کے منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق قانون سازی کو بہتر بنانے اور تخفیف آفات میں خواتین اور کمیونٹیز کی شمولیت بڑھانے میں ہماری معاونت کریں۔ محترمہ فوزیہ ارشد نے شرکاء کو یقین دلایا کہ وہ بطور سینیٹر صحت، تعلیم اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں خواتین کی شرکت کو بہتر بنانے کی پوری کوشش کریں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست شہریوں کو منصوبہ سازی کا حصہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کی ذمہ دار ہے۔
1122 کے ڈاکٹر رضوان نصیر نے کہا کہ پاکستان میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے حوالے سے بہت زیادہ قوانین ہیں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے بہت سارے ادارے ہیں ،اس سے کنفیوژن اور تناؤ پیدا ہوا ہے ، ملک میں موثر احتسابی طریقہ کار کا فقدان ہے۔
چیئر مین فلڈ کمیشن نے کہا کہ ملک میں نچلی سطح یعنی مقامی حکومت کا وجودہ نہیں ہے اور یہی پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش، بھارت اور جاپان کی مثالیں دے کر اپنی بات کو واضح کیا۔ انہوں نے سیاسی عزم کی عدم موجودگی اور ریور ایکٹ پر عمل درآمد نہ ہونے کی نشاندہی کی۔
میٹ آفس کے مہر صاحبزادہ خان نے کہا کہ اس سال 400 فیصد زیادہ بارشیں ہو چکی ہیں۔ انہوں نے اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ناقص اور ناکافی انفراسٹرکچر بارشوں سے زیادہ تباہی کے ذمہ دار ہیں۔پتن بورڈ کے رکن جناب عبدالقادر نے کہا کہ خطرات اور آفات کے حوالے سے ایسے مکالمے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جس کا محور فقط عوام ہو ۔
پتن کی طرف سے سرور باری نے کہا کہ کئی دہائیوں سے تباہی کو ’فطرت ‘ سے جوڑ کر بیان کیا جارہا ہے۔ زیادہ تر حکومتیں اور قدرتی آفات کے ماہرین آفات کہتے ہیں کہ ’’ اس تباہی کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ‘‘ یعنی لامثال تباہی ہے ۔
سروے میں تقریباً نصف جواب دہندگان کا خیال تھا کہ ماضی قریب میں آفات سے متعلق نقصانات کئی گنا بڑھ گئے ہیں اور تقریباً اسی فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ مکمل بحالی ممکن نہیں ہے۔ اس سروے میں یہ انکشاف بھی ہو اکہ عام علاقوں کی نسبت ، آفات کے شکار علاقوں میں معذوری کی شرح زیادہ ہے ۔ مثال کے طور پر، پانچ میں سے ایک فرد کو کسی نہ کسی طرح کی معذوری تھی، جبکہ 37 فیصد نے کہا کہ ان کے خاندان کے افراد دائمی بیمار ی کا شکار ہیں۔ پالیسی سازوں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کو پالیسیاں مرتب کرتے ہوئے ان نکات کو ذہن میں رکھنا ضرور ی ہے۔
ناگہانی آفات کے خطرے کی تشخیص و منصوبہ بندی میں مشاورت نہیں کی گئی،متاثرہ علاقوں کے90فیصدعوام کا موقف








