بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

واشنگٹن: چینی صدر کی ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو چین آنے کی دعوت

واشنگٹن: چینی صدر شی جن پھنگ نے آئندہ پانچ برسوں کے دوران ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو تعلیمی و ثقافتی تبادلے اور تعلیم کے لیے چین آنے کی دعوت دے دی۔** وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ دونوں عظیم ممالک اور دونوں ملکوں کے عوام عظیم قومیں ہیں۔

شی جن پھنگ نے کہا کہ ان کا دورہ صدر ٹرمپ کی دعوت پر دوستی کو آگے بڑھانے، تعاون کو وسعت دینے اور دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہے۔ چین اور امریکہ بڑی طاقتوں کی حیثیت سے انسانی ترقی اور عالمی پیش رفت کو آگے بڑھانے کی تاریخی ذمہ داری رکھتے ہیں۔

چینی صدر نے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں، مخلصانہ تعاون اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اختلافات کے باوجود مسلسل مکالمے سے باہمی افہام و تفہیم اور اعتماد بڑھایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ کے مفادات ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں اور تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

شی جن پھنگ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں دونوں ممالک کے تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اے آئی کی ترقی ذمہ دارانہ انداز میں ہونی چاہیے تاکہ یہ انسانی کنٹرول میں رہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہو۔ انہوں نے براہ راست پروازوں میں اضافے سمیت عوامی و تجارتی روابط بڑھانے کی تجویز بھی دی۔

انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان مسابقت تعمیری اور حدود کے اندر ہونی چاہیے، ایک دوسرے کو شکست دینے کی جنگ نہیں۔ دونوں ممالک کو تصادم اور محاذ آرائی سے بچنے کے لیے واضح حد قائم کرنی چاہیے جبکہ دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان باقاعدہ رابطہ اور بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار کو مزید بہتر بنایا جانا چاہیے۔

چینی صدر نے اعلان کیا کہ چین آئندہ پانچ برسوں میں ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو تبادلے اور تعلیم کے لیے چین آنے کی دعوت دے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چین کی جانب سے دو پانڈے، ’’پھنگ پھنگ‘‘ اور ’’فو شوانگ‘‘، چند روز میں اٹلانٹا چڑیا گھر منتقل ہوں گے۔

مزید پڑھیں:پلاسٹک ویسٹ سے سستا پٹرول و ڈیزل بنانا ممکن، طریقہ کار سامنے آگیا

انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کو پُرامن بقائے باہمی کے اصول پر آگے بڑھنا چاہیے، چین اورامریکا تعاون سے فائدہ اُٹھائیں گے،محاذ آرائی دونوں کیلئے نقصان دہ ہو گی، چین اور امریکا کے درمیان مقابلہ حدود کے اندر ہونا چاہیے، دونوں ممالک کو ہارجیت کی دوڑ میں نہیں رہنا چاہیے۔