ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کی اہلیہ سیتی حسماہ محمد علی انتقال کرگئیں،مرحومہ 100 برس کی تھیں۔وزیر اعظم انور ابراہیم کی تعزیت
سیتی حسماہ محمد علی کے انتقال کی اطلاع مہاتیر محمد کے دفتر کی جانب سے دی گئی۔ ان کا انتقال پیر کو ہوا جبکہ ان کی نماز جنازہ اور تدفین بھی پیر کی شام ملائیشیا کے انتظامی دارالحکومت پوترجایا کے قبرستان میں کی گئی۔
سیتی حسماہ اپنی الگ شناخت رکھنے والی مقبول شخصیت تھیں۔ انہیں سادہ مزاجی اور خوش مزاجی کے لیے جانا جاتا تھا جو ان کے شوہر مہاتیر محمد کے دوٹوک اور سخت انداز سے مختلف تھی۔
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے سیتی حسماہ محمد علی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم سیتی حسماہ کی ماں جیسی شخصیت کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور ملک کے لیے ان کی خدمات اور کردار کو سراہتی رہے گی۔
سیتی حسماہ محمد علی کے شوہر مہاتیر محمد کی عمر 101 برس ہے۔ انہیں اکثر ملائیشیا کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے۔ وہ دو مرتبہ ملک کے وزیراعظم رہے اور مجموعی طور پر دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے۔
مہاتیر محمد کا سیاسی سفر
مہاتیر محمد نے پہلی مرتبہ 1981 میں ملائیشیا کی وزارت عظمیٰ سنبھالی اور 2003 تک اس منصب پر فائز رہے۔ ان کے پہلے دور حکومت کے دوران ملائیشیا نے تیز رفتار صنعتی ترقی کا دور دیکھا اور ملک جنوب مشرقی ایشیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہوا۔
مہاتیر محمد نے 2018 میں سیاسی ریٹائرمنٹ سے واپسی کی اور اس وقت کے وزیراعظم نجیب رزاق کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اپوزیشن اتحاد کی قیادت کی۔ نجیب رزاق کا نام اربوں ڈالر کے 1MDB مالی اسکینڈل سے منسلک رہا۔
2018 میں دوسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد مہاتیر محمد دنیا کے معمر ترین وزیراعظم بن گئے تھے، تاہم ان کا دوسرا دور حکومت دو سال سے بھی کم عرصے تک جاری رہا۔ 2020 میں ان کا سیاسی اتحاد اندرونی اختلافات کے باعث ٹوٹ گیا، جس کے بعد ان کی دوسری وزارت عظمیٰ ختم ہوگئی۔
سیتی حسماہ اور مہاتیر محمد کی ملاقات
مہاتیر محمد اور سیتی حسماہ کی ملاقات 1940 کی دہائی کے اواخر میں اس وقت ہوئی جب دونوں سنگاپور میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
دونوں نے اگست میں اپنی شادی کی 70ویں سالگرہ منائی تھی۔ ان کے سات بچے ہیں، جن میں کاروباری شخصیت مخزانی مہاتیر، سماجی کارکن مرینا مہاتیر اور سیاست دان مخریز مہاتیر شامل ہیں۔
صحت عامہ کے شعبے میں خدمات
سیتی حسماہ محمد علی نے طبی شعبے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ مہاتیر محمد کی آبائی ریاست قدح میں میڈیکل افسر کے طور پر تعینات ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔
مہاتیر محمد کی سیاسی زندگی کے دوران سیتی حسماہ نے صحت عامہ سے متعلق مختلف سماجی معاملات پر کام کیا۔ انہوں نے بالخصوص ماں اور بچے کی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور دیگر سماجی امور کے لیے آواز اٹھائی۔
مہاتیر محمد ماضی میں سیتی حسماہ کو اپنی کامیابی کی بنیاد قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے ان کی یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کرنے کے عزم کو سراہا تھا، کیونکہ اس زمانے میں نسلی طور پر ملائی خواتین میں یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنا عام نہیں تھا۔
مہاتیر محمد نے 2018 میں سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی تعلیمی جدوجہد کا ذکر کیا اور کہا تھا کہ یہ ان کے مضبوط کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
عمران خان کا اظہار افسوس
سابق وزیر اعظم عمران خان نے مہاتیر محمد کی اہلیہ کے انتقال پر ان سے اظہار افسوس کیا ہے۔
عمران خان کے آفیشل فیس بک اکائونٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس گہرے صدمے پر سابق وزیراعظم ملائیشیا ڈاکٹر مہاتیر محمد اور ان کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے ملائیشیا کے اپنے دوروں کے دوران سیتی حسماہ کی شائستگی، خلوص اور مہمان نوازی کا ہمیشہ نہایت گرمجوشی سے ذکر کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیتی حسماہ نے اپنے ملک اور عوام کی خدمت میں ایک قابلِ ذکر زندگی گزاری اور انہیں ہمیشہ بے حد احترام اور محبت کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ڈاکٹر مہاتیر محمد سمیت پورے خاندان کو اس مشکل اور غم کی گھڑی میں صبر و استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔
مزید پڑھیں:ہم انسانیت کا وجود مٹا سکتے ہیں، ہمارے شیئرز خریدیں، اے آئی کمپنی کی انوکھی آفر
خیال رہے کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے 21 سے 23 مارچ 2019 تک اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر پاکستان کا سرکاری دورہ اورپاکستان ڈے پریڈ میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے بھی شرکت کی تھی۔









