وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی قانون کے تحت ایک پابند معاہدہ ہے جسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جاسکتا، پاکستان پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کی جانب سے ’’پانی کا بطور ہتھیار استعمال، سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے تاریخی، قانونی و تذویراتی پہلو‘‘ کے موضوع پر خصوصی رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ (Attaullah Tarar) نے رپورٹ کے اجراء کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ بطور پاکستانی ہمیں فخر ہے کہ ہمارا تعلق سندھ طاس کی قدیم تہذیب سے ہے، جبکہ طے شدہ بین الاقوامی معاہدے پر عمل درآمد متعلقہ فریقین کے لیے لازمی ہوتا ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جاسکتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت بھی سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے موقف کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے۔ پاکستان نے معاہدے سے متعلق اپنا موقف سفارتی سطح پر بھرپور انداز میں اٹھایا اور عالمی برادری کو اپنے قانونی مؤقف سے آگاہ کیا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو نہ معطل کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے التوا میں رکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ 1960 میں طے پایا تھا اور اس نے دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں کی کشیدگی اور جنگوں کے باوجود اپنا کردار ادا کیا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کے پانی کو روکنے، اس کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے یا اسے موڑنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی پاکستان کے عوام کی زندگی، زراعت اور معیشت سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
مزیدپڑھیں:ورلڈکپ 2027: پاکستان اور بھارت کو ایک بار پھر ایک ہی گروپ میں رکھنے کا امکان
ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کا ذریعہ ہے اور پانی کو سیاسی یا تذویراتی دباؤ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرچکا ہے۔ ان کے مطابق اس کے باوجود پاکستان کا مشرقی ہمسایہ پاکستان پر سرحد پار مداخلت کے بے بنیاد الزامات عائد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہی الزامات کی بنیاد پر سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کا اعلان کیا گیا، تاہم پاکستان نے اس اقدام کے خلاف قانونی اور سفارتی محاذ پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل یا التوا میں رکھنے کے معاملے پر عالمی قانونی فورمز کے فیصلے پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے اور مذاکرات و پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے، تاہم پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔









