اسرائیل اور بھارت کے وزرائے اعظم نے فلائی دبئی(Flydubai) کے بھارتی پائلٹ سمت مچھر کو طیارے میں پیش آنے والے خطرناک واقعے کے دوران 174 مسافروں کی جانیں بچانے پر ہیرو قرار دیا ہے۔ پائلٹ پر اس کے ساتھی نے مبینہ طور پر چاقو سے حملہ کیا تھا، جس کے بعد طیارہ تیزی سے نیچے جانے لگا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں اس وقت خوفناک صورت حال پیدا ہوئی جب شریک پائلٹ نے کپتان سمت پر حملہ کردیا۔ حملے کے بعد طیارہ 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں تقریباً 14 ہزار فٹ یعنی 4 ہزار 267 میٹر نیچے آ گیا تھا۔
اس پرواز میں 174 افراد سوار تھے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق مسافروں اور عملے نے بعد میں شریک پائلٹ پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی اور طیارے کو مزید خطرے سے بچا لیا۔
ممبئی سے تعلق رکھنے والے سمت مچھر نے ہوا بازی کے شعبے میں آنے سے قبل ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ بعد میں انہوں نے نیوزی لینڈ میں پائلٹ کی تربیت حاصل کی اور بھارتی ایئرلائن اسپائس جیٹ میں تقریباً 11 سال خدمات انجام دیں۔ وہ 2022 میں فلائی دبئی سے وابستہ ہوئے۔
تقریباً 15 سالہ فضائی کیریئر میں وہ ہزاروں گھنٹے طیارہ اڑا چکے ہیں۔ ایک سابق انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ ہوا بازی ان کا بچپن کا خواب نہیں تھا بلکہ تقریباً 19 سال کی عمر میں ایک ایوی ایشن سیمینار کے دوران انہیں پائلٹ بننے کا شوق پیدا ہوا۔
مزیدپڑھیں:تیز رفتار کار نے سڑک کنارے کھڑے افراد کو کچل دیا، 3 جاں بحق
سمت مچھر نے اس انٹرویو میں کہا تھا کہ آج کے بہت سے دوسرے ہوا بازوں کے برعکس، ہوا بازی بچپن کا خواب نہیں تھا۔ یہ میری زندگی میں بہت بعد میں آئی۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جب یونیفارم پہنوں تو کوئی فضول بات نہیں، صرف اپنا کام کرو اور اسے مکمل کرو۔ جب کاک پٹ سے باہر نکل جاؤ تو بس ختم، اس کے بارے میں سوچنا بند کردو۔ کسی اور کو اب تمہاری ضرورت ہے۔ بچے وہاں ہیں، وہ تمہارے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ حملے کے بعد کپتان سمت مچھر خون میں لت پت کاک پٹ کے فرش پر موجود تھے، تاہم شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے کا نظام فعال کردیا تھا۔
کاک پٹ کا دروازہ کھلنے کے بعد مسافروں اور عملے کو اندر داخل ہونے اور شریک پائلٹ پر قابو پانے کا موقع ملا۔ طیارے میں فلائی دبئی کے دو دیگر پائلٹ بھی مسافر کی حیثیت سے موجود تھے، جنہوں نے طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحفاظت اتارنے میں مدد کی۔
اس واقعے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے سمت مچھر کو حقیقی ہیرو قرار دیتے ہوئے ان کی بہادری کو سراہا۔
Prime Minister Benjamin Netanyahu:
My salute to the Indian pilot Captain Smit Machchhar for his extraordinary bravery.
Despite being stabbed and seriously injured, he fought back, resisted, opened the cockpit door, and enabled passengers and crew to overpower the attacker —…
— Prime Minister of Israel (@IsraeliPM) September 30, 2026
نیتن یاہو نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے اسرائیلی شہریوں اور دیگر ممالک کے شہریوں سمیت 174 افراد کی جانیں بچائیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے دفتر کی جانب سے جاری ایک ویڈیو بیان میں اس سے پہلے کہا تھا کہ ’تمام مسافر خطرے سے باہر ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی سمت مچھر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ہیرو قرار دیا۔
Captain Smit Machchhar is a HERO.
In the face of the gravest danger and despite being seriously injured, he showed immense courage and an unwavering resolve to protect the lives of others.
His valour helped save hundreds of lives and avert a great tragedy.
India is proud of…
— Narendra Modi (@narendramodi) October 1, 2026
مودی نے ایکس پر اپنے بیان میں لکھا کہ انتہائی سنگین خطرے کے باوجود اور شدید زخمی ہونے کی حالت میں انہوں نے دوسروں کی جان بچانے کے لیے بے پناہ بہادری اور غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔‘‘
بھارتی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ان کی بہادری نے سیکڑوں جانیں بچانے اور ایک بڑے سانحے کو ٹالنے میں مدد کی۔‘
واقعے کے بعد سمت مچھر کو سعودی عرب کے شمال مغربی شہر تبوک کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق وہ پائلٹ کے اہل خانہ اور سعودی حکام سے رابطے میں ہیں اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب میں بھارتی سفارت خانے نے ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ سمت مچھر کی حالت مستحکم ہے۔
بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق سمت مچھر کا واقعے کے بعد آپریشن بھی کیا گیا ہے۔
فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والے واقعے کی وجوہات اور شریک پائلٹ کی جانب سے مبینہ طور پر طیارہ تباہ کرنے کی کوشش کے محرکات سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔









