بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

’’جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے‘‘ ملزمہ پھانسی گھاٹ سے اسپتال منتقل

امریکا میں سزائے موت کی ملزمہ زندہ بچ گئی،یہ ریاست ٹینیسی میں 200 سالوں سے بھی زائد عرصے میں کسی خاتون کو سزائے موت دینے کی پہلی کوشش تھی جو کوشش ناکام رہی

امریکی ریاست ٹینیسی میں تقریباً 30 سال قبل ہم جماعت طالبہ کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت پانے والی کرسٹا پائیک زہریلا انجیکشن دیے جانے کے باوجود زندہ بچ گئیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اس ریاست میں 200 سالوں سے بھی زائد عرصے میں کسی خاتون کو سزائے موت دینے کی پہلی کوشش تھی جو کوشش ناکام رہی۔

واقعے کے بعد کرسٹا پائیک کی طبی حالت کے بارے میں فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکا۔ انہیں جیل سے طبی امداد کے لیے ممکنہ طور پر اسپتال یا کسی دوسری جگہ منتقل کیا گیا تھا۔

ٹینیسی محکمہ اصلاحات نے اپنے بیان میں کہا کہ سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے ریاست کے قانونی اور منظور شدہ طریقہ کار کے تمام مراحل پر عمل کیا گیا۔ محکمے کے مطابق زہریلے انجیکشن میں استعمال ہونے والی دوا پہلے بھی مؤثر ثابت ہوئی ہے اور مقررہ طریقہ کار میں اس سے آگے کسی اضافی کارروائی کی گنجائش نہیں۔

دوسری جانب کرسٹا پائیک کے وکلا نے عمل درآمد کے دوران وفاقی عدالت سے سزائے موت روکنے کی درخواست کی۔ امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے مطابق درخواست میں عینی شاہدین کے بیانات کا حوالہ دیا گیا کہ دونوں سرنجوں میں موجود زہریلی دوا دینے کے باوجود خاتون زندہ تھیں اور خراٹے لے رہی تھیں۔

ٹینیسی کے گورنر نے خاتون کی رحم کی اپیل مسترد کردی تھی، تاہم سزائے موت کی ناکام کوشش کے بعد انہوں نے اس سال ریاست میں سنائی گئی تمام سزائے اموات پر عمل درآمد روکنے اور واقعے کی جامع، آزادانہ تحقیقات کا اعلان کیا۔

یہ ٹینیسی میں رواں سال سزائے موت پر عمل درآمد کی دوسری ناکام کوشش ہے۔ مئی میں بھی ایک شخص کو زہریلا انجیکشن دینے کی کوشش اس وقت روک دی گئی تھی جب جیل حکام اس کی رگ میں انجیکشن لگانے کے لیے مناسب جگہ تلاش نہ کرسکے تھے۔

خاتون کو 1995 میں 19 سالہ کولین سلیمر کو تشدد کے بعد قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس وقت ان کی عمر 18 سال تھی، جبکہ ان کا 17 سالہ دوست ٹاڈریل شپ اور ایک تیسرا ساتھی بھی اس واقعے میں ملوث تھے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق تینوں نے ایک تربیتی مرکز میں اپنی ہم جماعت کو جنگل میں ایک مقام پر بلایا، جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا۔

قتل کی سنگین نوعیت نے اس وقت امریکی میڈیا میں خاصی توجہ حاصل کی تھی۔ واقعے میں متاثرہ لڑکی کے سینے پر پینٹاگرام کی شکل کا نشان بنانے اور اس کی کھوپڑی کا ایک ٹکڑا یادگار کے طور پر لے جانے کی تفصیلات بھی سامنے آئی تھیں۔

خاتون اور ان کے ساتھی نے قتل کا اعتراف کیا تھا اور دونوں کو فرسٹ ڈگری قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔ مقتولہ کی والدہ نے خاتون کی سزائے موت کی حمایت کی ہے۔

دوسری جانب خاتون کے وکلا نے گورنر سے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست میں ان کے بچپن کے حالات، تشدد، غفلت اور جنسی استحصال کی تفصیلات پیش کی تھیں۔

226 صفحات پر مشتمل درخواست کے مطابق خاتون کو 11 اور 17 سال کی عمر میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ جیل میں ان میں بائی پولر ڈس آرڈر اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کی تشخیص بھی ہوئی۔

وکلا نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ خاتون کی والدہ حمل کے دوران کثرت سے شراب نوشی کرتی تھیں، جس سے ان کے دماغی نشوونما پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور کم عمری میں اپنے جذبات اور فوری ردعمل پر قابو پانے کی صلاحیت متاثر ہوئی۔

امریکی محکمہ اصلاحات کے مطابق خاتون کو اگست 2001 میں جیل کی ایک دوسری قیدی پر حملے کے الزام میں اقدامِ قتلِ کے جرم میں بھی سزا سنائی گئی تھی۔

امریکا میں خواتین کو سزائے موت دینے کے واقعات انتہائی کم ہیں۔ ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق 1976 میں سپریم کورٹ کی جانب سے سزائے موت کی بحالی کے بعد اب تک امریکا میں ایک ہزار 683 افراد کو پھانسی یا دیگر طریقوں سے سزائے موت دی گئی، جن میں خواتین کی تعداد صرف 18 ہے۔

مزید پڑھیں:ایشین گیمز مینز کرکٹ: پاکستان اوربھارت فائنل میں ٹکرائیں گے

اس سے قبل ٹینیسی ریاست میں کل 17 افراد کو سزائے موت دی جاچکی تھی۔ سزائے موت دیے جانے کی صورت میں یہ خاتون جدید امریکی دور میں ٹینیسی میں نوعمری میں کیے گئے جرم پر سزائے موت پانے والی پہلی خاتون شخصیت ہوتیں۔