اپوزیشن اور حکومتی وفد کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے پہلے روز فریقین کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے اور کل دوبارہ بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
سردار ایاز صادق نےاپوزیشن وفد کا اسپیکر چیمبر پہنچنے پر استقبال کیا، اپوزیشن کی جانب سے علامہ راجا ناصر عباس، بیرسٹرگوہر، اسد قیصر،عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجا شریک ہوئے جبکہ حکومتی وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی، شیری رحمان، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور طلال چوہدری شامل تھے۔ اس کے علاوہ اعجاز جاکھرانی، نوید قمر، رانا ثناء اللہ اور امیر مقام بھی حکومتی وفد کا حصہ تھے۔
ذرائع کا بتانا ہے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے دوران حکومتی ٹیم کا مؤقف تھا کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی کسی صورت اجازت نہیں دینگے، آپ لانگ مارچ کریں دھمکیاں دیں، اڈیالہ پر حملے کا کہیں تو یہ درست نہیں، لچک کا مظاہرہ صرف حکومت نے نہیں اپوزیشن نے بھی کرنا ہے۔
اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے فریقین پر افہام و تفہیم سے آگے بڑھنے پر زور دیا اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔
جس کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے وفد کے درمیان پہلے روز کے مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے اختتام پذیر ہو گئے ، فریقین کے درمیان کل دوپہر 2 بجے دوبارہ مذاکرات ہونگے۔
یاد رہے پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کا اعلان کررکھا ہے۔









