پیرس کے طلبا اپنے مطالبات کے حق میں سراپا احتجاج ہیں ۔ اب ہائی اسکول کے طلبا کے مظاہروں سے بڑھ کر امن و امان کا مسئلہ بن چکا ہے، وزیر انصاف
فرانس میں تعلیمی معیار اور اسکولوں کی خراب صورتحال کے خلاف ہزاروں طلبا کا احتجاج پرتشدد ہوگیا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 5 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق فرانس میں طلبا کے احتجاج کے باعث 700 سے زائد اسکول متاثر ہوئے، جبکہ مختلف سڑکوں پر آگ لگانے کے واقعات بھی پیش آئے۔
واضح رہے کہ فرانس میں مظاہرین اساتذہ کی کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبا اور اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ احتجاج کے دوران 5 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملک میں صورتحال فسادات اور شہری تشدد کی جانب بڑھ رہی ہے، جسے ختم کرنے کے لیے تمام دستیاب اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیر انصاف ژیرال دارمانین نے کہا کہ احتجاج اب ہائی اسکول کے طلبا کے مظاہروں سے بڑھ کر امن و امان کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ملک کے 3 ہزار 700 اسکولوں میں سے 735 کسی نہ کسی طرح ان پرتشدد مظاہروں سے متاثر ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ فرانس میں ہونے والا احتجاج گزشتہ ہفتے پیرس سے شروع ہوا تھا جو اب مونپیلیے، نانٹ اور مارسیلے سمیت فرانس کے دیگر شہروں تک پھیل گیا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ اسکول کے اوقات بہت طویل ہیں، کلاس رومز میں شدید گرمی ہوتی ہے جبکہ عملے کے متعدد ارکان بھی غیر حاضر رہتے ہیں۔
فرانس کے وزیر تعلیم ایڈوار ژیفغے نے الزام عائد کیا ہے کہ طلبا کی احتجاجی تحریک کو غیر طلبہ افراد اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے ملک میں جاری طلبا احتجاج کے دوران اسکولوں میں ہونے والے تشدد اور توڑ پھوڑ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے سے تعلیمی ادارے ناقابل بیان تشدد کی زد میں ہیں۔
مزید پڑھیں:ایران کے پاس ایسی قیادت نہیں جس سے مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ
والدین نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ احتجاج کے دوران ہونے والی جھڑپوں، تشدد اور بدامنی کے باعث ان کے بچے متاثر ہوسکتے ہیں۔









