جنریٹو اے آئی کا غیر محتاط استعمال سائبر سیکیورٹی کے لیے خطرہ بننے لگا۔ نیشنل سرٹ کی ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ غیر منظور شدہ اے آئی ٹولز سے حساس معلومات، تنظیمی ڈیٹا اور سورس کوڈ افشا ہوسکتا ہے۔پرامپٹ انجیکشن اور غیر محفوظ اے آئی کوڈ سائبر حملوں کا راستہ کھول سکتے ہیں۔
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے جنریٹو اے آئی کے محفوظ استعمال سے متعلق اداروں کے لیے سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کردی۔ ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ شیڈو اے آئی اور غیر منظور شدہ تھرڈ پارٹی سروسز کے استعمال سے حساس معلومات، تنظیمی ڈیٹا، سورس کوڈ اور صارفین کی اسناد افشا ہونے کا خطرہ ہے۔
پرامپٹ انجیکشن، غیر محفوظ اے آئی کوڈ اور اے آئی سپلائی چین حملے بھی اداروں کی سائبر سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرات قرار دیے گئے ہیں۔ نیشنل سرٹ نے اداروں کو جنریٹو اے آئی کے قابل قبول استعمال کی پالیسی نافذ کرنے اور سرکاری، حساس یا خفیہ معلومات عوامی یا غیر منظور شدہ اے آئی پلیٹ فارمز پر فراہم نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں:دو پاکستانی ڈیزائنرز نے با اثر عالمی فیشن انڈیکس ’’بی او ایف 500‘‘ میں جگہ بنا لی
ایڈوائزری میں اے آئی سے تیار کردہ کوڈ اور اہم نتائج کا انسانی ماہرین سے جائزہ لینے، ڈیٹا لاس پریوینشن اور مانیٹرنگ کنٹرولز نافذ کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ نیشنل سرٹ نے اے آئی سے متعلق سیکیورٹی واقعات کی فوری روک تھام، شواہد محفوظ کرنے اور ایسے واقعات سمیت اے آئی سپلائی چین حملوں کی فوری رپورٹنگ کی ہدایت کی ہے۔









