آن لائن پوسٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ(Islamabad International Airport) سے سفر کرنے والے بین الاقوامی مسافروں کو پرواز سے ایک دن قبل آن لائن امیگریشن کلیئرنس سروس فراہم کی جا رہی ہے اور یہ پیشکش کی جا رہی ہے کہ قبل از وقت یہ عمل مکمل کرنے سے ایئرپورٹ پر تاخیر سے بچا جا سکتا ہے۔
یہ دعویٰ غلط ہے۔
دعویٰ
ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ سے گرافک شیئر کیا گیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے سفر کرنے والے بین الاقوامی مسافروں کے لیے پرواز سے کم از کم ایک دن پہلے ”ایئرپورٹ کلیئرنس“ مکمل کرنا لازمی ہے۔
پاکستان کی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کا نام استعمال کرتے ہوئے، اس گرافک میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ روانگی سے قبل کی کلیئرنس سروس مسافروں کو ایئرپورٹ پر تاخیر، زحمت اور ممکنہ امیگریشن مسائل سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے۔
پوسٹ میں ایک واٹس ایپ نمبر بھی دیا گیا ہے، جسے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کا رابطہ نمبر بتایا گیا ہے اور مسافروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایئرپورٹ کلیئرنس اور چوبیس گھنٹے کی رہنمائی کے لیے اس پر رابطہ کریں۔
حقیقت
ایجنسی حکام کے مطابق پوسٹ میں مشتہر کی گئی سروس کا ایف آئی اے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔ امیگریشن کلیئرنس روانگی کے وقت ایئرپورٹ پر ہی انجام دی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں:ملازمین کو سخت موسم میں سفر سے بچانے کیلئے باس نے انہیں نئی گاڑیاں تحفے میں دیدیں
ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈائریکٹرڈاکٹر عثمان انور نے جیو فیکٹ چیک کو تصدیق کی کہ یہ پوسٹ جعلی ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایف آئی اے اسلام آباد زون کے ترجمان نے بھی اس کی تصدیق کی۔
ترجمان نے کہا، ’’یہ امپرسنیشن (Impersonation) ہے اور فیک ہے، یہ ہم نے آفیشلی کچھ بھی ریلیز نہیں کیا، یہ نمبر بھی فیک ہے، ڈائریکٹر صاحب کا یہ نمبر ہے ہی نہیں۔‘‘
ترجمان کے مطابق ایف آئی اے امیگریشن حکام کے پاس ایسا کوئی نظام موجود نہیں جو مسافروں کو پرواز سے ایک دن پہلے کلیئرنس حاصل کرنے کی اجازت دے۔ مسافروں کی امیگریشن کلیئرنس روانگی کے وقت ایئرپورٹ پر ہی کی جاتی ہے۔
جیو فیکٹ چیک نے پوسٹ میں دیے گئے نمبر پر بھی رابطہ کیا۔ وہ نمبر اب بھی فعال ہے اور اس کی واٹس ایپ پروفائل تصویر پر ایف آئی اے کا لوگو لگا ہوا ہے، تاہم جیو فیکٹ چیک کی کالز یا میسجز کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
فیصلہ: ایف آئی اے نے تصدیق کی ہے کہ وہ بین الاقوامی مسافروں کے لیے روانگی سے قبل کسی قسم کی ”ایئرپورٹ کلیئرنس“ سروس فراہم نہیں کرتی۔ یہ پوسٹ ایجنسی کی جعلی شناخت استعمال کر کے بنائی گئی ہے، جبکہ دیا گیا فون نمبر کسی ایف آئی اے ڈائریکٹر کا نہیں ہے۔









