واشنگٹن ڈی سی: پاکستانی انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے امریکی مارکیٹ میں کاروباری روابط، سرمایہ کاری اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا کرنے کے مقصد سے پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کی تیسری تقریب سفارت خانہ پاکستان، واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوئی، جس میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں، امریکی ٹیکنالوجی ماہرین، سرمایہ کاروں اور کاروباری شراکت داروں نے بھرپور شرکت کی۔
یہ سلسلہ سلیکون ویلی اور ڈیلاس میں ہونے والی تقریبات کے بعد واشنگٹن ڈی سی پہنچا ہے۔ اس کا انعقاد سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی، پاکستانی قونصل خانوں اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے کا اگلا ایونٹ 23 اکتوبر کو شکاگو میں منعقد ہوگا۔
تقریب کا بنیادی مقصد پاکستان کی ابھرتی ہوئی آئی ٹی کمپنیوں کی برآمدی صلاحیت کو امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ٹھوس تجارتی شراکت داری میں تبدیل کرنا، سرمایہ کاری کے امکانات کو فروغ دینا اور پاکستانی ٹیکنالوجی مصنوعات و خدمات کو عالمی منڈی میں متعارف کرانا تھا۔
پاک-امریکہ تعلقات میں آئی ٹی تعاون کو نئی سمت دینے کی ضرورت ہے: سفیر پاکستان
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاک-امریکہ دوطرفہ تعلقات کو انسداد دہشت گردی کے روایتی دائرے سے آگے بڑھاتے ہوئے انفارمیشن ٹیکنالوجی، تجارت اور معاشی تعاون کی جانب نئی سمت دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیزی سے تبدیل ہوتے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو امریکی مارکیٹ میں ایک مؤثر تجارتی شراکت دار کے طور پر متعارف کرانا اہم ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے دفاع اور سفارت کاری کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے، اب توجہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے اور معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران میں بھی اہم سیاسی کردار ادا کیا ہے اور اب ملک معاشی میدان میں اپنی اہمیت اور افادیت ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
ان کے مطابق پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 جیسی تقریبات پاکستانی کمپنیوں کو امریکی کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست روابط قائم کرنے، اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور نئے تجارتی معاہدوں کے امکانات تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری پر زور
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید کاروباری ماڈلز اور سازگار تکنیکی ماحول پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ڈیجیٹل معیشت میں مضبوط مقام حاصل کرنے کے لیے پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کو امریکی ٹیکنالوجی ماہرین، کاروباری اداروں اور انٹرپرائزز کے تجربات اور مہارتوں سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔
سفیر پاکستان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور اس شعبے میں سرمایہ کاری سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کرنے کے امکانات بڑھیں گے۔
مزیدپڑھیں:مریدکے میں ایلیٹ فورس کی گاڑی الٹنے سے ایک اہلکارجاں بحق، 5 زخمی
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں اور گریجویٹس اپنے متعلقہ شعبوں میں تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، تاہم اس پیش رفت کو مزید آگے بڑھانے کے لیے مسلسل کوششوں، فنی تربیت اور جدت پر مبنی تعلیمی نظام کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، اسٹارٹ اپس، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور بڑے اداروں میں امریکی سرمایہ کاری اور شراکت داری پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔

16 پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کی شرکت
پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کی واشنگٹن ڈی سی تقریب میں 16 معروف پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں نے شرکت کی۔ ان میں اگنائیٹ، اوپن ڈی سی، سسٹمز لمیٹڈ، 10 پیرلز، ٹی ایم سی اور ٹیکلوجکس سمیت دیگر کمپنیاں شامل تھیں۔
تقریب کے دوران شریک کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز نے اپنے اداروں کے آپریشنز، ٹیکنالوجی مصنوعات، خدمات اور پاکستان کے مجموعی آئی ٹی ایکوسسٹم کے بارے میں شرکا کو آگاہ کیا۔
اس موقع پر ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جس میں پاکستان کی نمایاں آئی ٹی کمپنیوں اور ان کی کارکردگی کے اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا۔
تقریب کے منتظمین کے مطابق اس پلیٹ فارم کا مقصد پاکستانی کمپنیوں کو امریکی ٹیکنالوجی اداروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ بامعنی روابط قائم کرنے اور مشترکہ کاروباری منصوبوں کے امکانات تلاش کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کی جانب سے مستقبل کے امکانات اجاگر
پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو فیصل جیڈی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مارکیٹ میں پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا۔
انہوں نے مستقبل میں مشترکہ سرمایہ کاری، کاروباری شراکت داری اور پاکستانی آئی ٹی خدمات کی امریکی مارکیٹ تک رسائی کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔
سفارت خانہ پاکستان میں تعینات ٹریڈ منسٹر حنیف چنا نے بھی جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے مواقع پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے پاکستانی کمپنیوں کے لیے امریکی مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھانے، نئی شراکت داریاں قائم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
امریکہ پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی میں اہم شراکت دار ہے: گورنر سندھ
گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور پاکستانی کمپنیوں کو امریکی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر سفارت خانہ پاکستان، پاکستان ایکسپورٹ پروموشن بیورو اور اوپن گوگل کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی میں ایک اہم شراکت دار ہے، جبکہ سافٹ ویئر انجینئرنگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں بڑھتی ہوئی طلب پاکستانی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔
گورنر سندھ کے مطابق ان مواقع سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی روابط کو مضبوط بنانا اور پاکستانی کمپنیوں کو عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ضروری ہے۔
پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی سے اقتصادی شراکت داری مضبوط بنانے کی اپیل
سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی کمپنیوں کی تکنیکی مہارت، نوجوانوں کی فنی تربیت، جدید تعلیم اور کاروباری جدت کو یکجا کرکے پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں زیادہ نمایاں مقام دلایا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 سیریز کے ذریعے پاکستانی کمپنیوں کو امریکی اداروں کے ساتھ اشتراک کے لیے تیار کرنا اور ان کی مصنوعات و خدمات کو عالمی معیار کے مطابق آگے بڑھانا مقصود ہے۔
سفیر پاکستان نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ پاکستان اپنی قومی تاریخ کے ایک اہم دور سے گزر رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی قبولیت اور ساکھ میں اضافے کے ساتھ معاشی ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان معیاری اور نسبتاً کم لاگت کی ڈیجیٹل مصنوعات اور حل پیش کرکے عالمی سطح پر اپنی شناخت مضبوط بنا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، مہارتوں کی ترقی اور بین الاقوامی شراکت داری ملک کو ترقی یافتہ معیشتوں کی صف میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
تقریب کے اختتام پر شریک پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں نے سفیر پاکستان اور سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور کاروباری شراکت داروں کے ساتھ بامعنی نیٹ ورکنگ کے لیے یہ پلیٹ فارم فراہم کیا۔









