پاکستانی گلوکار جواد احمد نے اولاد نہ ہونے اور دوسری شادی کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرتی دباؤ کے باوجود انہوں نے اس معاملے کو اپنی زندگی کا مسئلہ نہیں بنایا۔ گلوکار کے مطابق ان کے گھرانے کا ماحول ترقی پسند رہا ہے، اس لیے والدین اور خاندان کی جانب سے انہیں اولاد نہ ہونے پر دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
جواد احمد طویل عرصے سے موسیقی کی دنیا سے وابستہ رہے ہیں۔ ’دوستی‘ اور ’او کہندی اے سیاں میں تیری آں‘ جیسے گانوں نے انہیں عوام میں خاص پہچان دلائی۔ بعدازاں انہوں نے سیاست میں بھی قدم رکھا اور اب انہیں اکثر سیاسی پروگراموں میں حالاتِ حاضرہ پر تجزیہ کرتے دیکھا جاتا ہے۔
گلوکار نے اپنی ازدواجی زندگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کئی برس سے شادی شدہ ہیں، تاہم ان کے ہاں اولاد نہیں ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے اس صورتِ حال کو ذاتی مسئلہ بنا کر نہیں دیکھا، لیکن وہ اس بات سے واقف ہیں کہ بعض مرد پہلی شادی سے بچے نہ ہونے کی صورت میں اولاد کی خواہش کے تحت دوسری شادی کرلیتے ہیں۔
دوسری شادی کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے جواد احمد نے کہا کہ اگرچہ مردوں کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن ان کے خیال میں دو خواتین کے درمیان مکمل انصاف کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اسی لیے ان کا مؤقف ہے کہ انسان کو ایک ہی ازدواجی رشتے پر توجہ دینی چاہیے اور اسی تعلق کو نبھانا چاہیے۔
مزید پڑھیں:لیور پول ،سابق فٹبال اسٹار کتے کے حملے میں شدید زخمی، 50 ٹانکے لگے
جواد احمد کی گفتگو میں خاندانی دباؤ، اولاد کی خواہش اور دوسری شادی سے متعلق معاشرتی رویوں پر ان کا ذاتی نقطۂ نظر سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق خاندان کی جانب سے اولاد کے معاملے پر دباؤ نہ ہونا ان کے لیے اہم رہا، جبکہ دوسری شادی کے حوالے سے ان کی رائے باہمی انصاف اور ایک رشتے سے وابستگی کے تصور پر مبنی ہے۔









