چین نے ملک کے تجارتی رازوں کو محفوظ بنانے کے لیے خصوصی قوانین کا مسودہ تیار کر لیا ہے اور وزارتِ تجارت کے مطابق ان مجوزہ سخت ضوابط پر عوامی آراء طلب کی جا رہی ہے۔ مسودے کے تحت یہ قواعد ان غیر ملکی اداروں پر لاگو ہوں گے جو بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کے دوران چینی تجارتی رازوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں اور جن کے یہ اقدامات چین کی قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے لیے خطرہ یا حقیقی خطرہ بنتے ہوں۔
وزارتِ تجارت کے جاری کردہ مسودہ دستاویز کے مطابق، اگر کوئی غیر ملکی ادارہ ان ممنوعہ سرگرمیوں یا خلاف ورزیوں میں ملوث پایا گیا تو چینی حکام اس پر ایک یا ایک سے زیادہ سخت اقدامات نافذ کرنے کا مکمل اختیار رکھتے ہیں۔ ان ممکنہ اقدامات میں چین کے ساتھ سامان، ٹیکنالوجی اور خدمات کی تجارت پر پابندی عائد کرنا یا اسے محدود کرنا شامل ہے، تاکہ ملکی مفادات کا دفاع کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ، قوانین کے دائرہ کار میں یہ بھی شامل ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے اداروں کی جانب سے چین میں کی جانے والی نئی سرمایہ کاری پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی اور اس پر قدغن لگائی جاسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ اقدام چین کی طرف سے اپنی معاشی سلامتی کو مضبوط کرنے اور عالمی تجارتی منڈی میں اپنے تکنیکی اور تجارتی اثاثوں کو غیر ملکی مداخلت سے محفوظ رکھنے کی ایک بڑی کوشش کی حیثیت رکھتا ہے۔









