بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حکومت 5سال پورے کرے گی، جو تین چوہے نکلے ہیں ان کا شکار ہوتے سب دیکھیں گے،وزیراعظم

حافظ آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ریاست گرانے کے لیے لوگوں کا ضمیر خریدنے کی کوشش ہورہی ہے، جو تین چوہے شکار کیلئے نکلے ہیں آنے والے دنوں میں ان کا شکار ہوتے سب دیکھیں گے۔پنجاب کے شہر حافظ آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جب میرے پانچ سال پورے ہوجائیں گے تو وعدہ ہے کہ جتنا کام ہم نے کیا ہوگا پانچ سال میں اتنا کام کسی حکومت نے نہیں کیا ہوگا، مجھے سیاست میں آنے کی ضرورت نہیں تھی کہ جو کچھ میں چاہتا تھا وہ مجھے مل چکا تھا لیکن میں صرف نوجوانوں کے مستقبل کی خاطر سیاست میں آیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک بڑے مقصد کے لیے بنا ہے، نظریئے کے بغیر کوئی بھی قوم نہیں بنتی جبکہ نظریئے سے ہٹنے والی قوم تباہ ہوجاتی ہے، قوم جب بنتی ہے جب اس کا نظریہ ایک ہو، جاگ پنجابی جاگ، سندھو دیش، بلوچستان کی آزادی کی تحریک یا پختونستان، جب تک ہم یہ نعرے نہیں چھوڑیں گے ہم ایک قوم نہیں بن سکتے، میں نے فیصلہ کیا کہ قوم کی تربیت کے لیے رحمت اللعالمین اتھارٹی بناوں اور قوم کو بتاوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کیا تھی، انہوں نے مدینے کی ریاست میں تمام مذاہب کو جمع کیا جس میں مسلم بھی تھے اور غیر مسلم بھی جو کہ ایک نظریے پر جمع ہوئے۔ عمران خان نے کہا کہ 25 سال سے اپنی قوم کو تبلیغ کررہا ہوں کہ اگر عظیم قوم بننا ہے تو اچھائی کا ساتھ دیں، میں اس لیے سیاست میں نہیں آیا کہ آلو کی قیمت کیا ہے اور ٹماٹر کی قیمت کیا ہے، میں نوجوانوں کو ایک قوم بنانے کے لیے سیاست میں آیا، پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک تعلیمی نصاب کے لیے آئے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ریاست کو گرانے کے لیے لوگوں کا ضمیر خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے، کوئی پیسے کے زور پر حکومت گرانے کی کوشش کرے تو قوم مقابلہ کرتی ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں کی امریکی صدر کے سامنے کانپیں ٹانگ رہی ہوتی تھیں اور پرچی ہاتھ میں ہوتی ہے کہ کوئی غلط بات منہ سے نہ نکل جائے، میری زندگی مغرب میں گزری، جو ان کے جوتے پالش کرے وہ اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو ملک اپنی عزت نہیں کرتا دنیا اس کی عزت نہیں کرتی، دس سال 2008 تا 2018 ملک میں 400 ڈرون حملے ہوئے لیکن آصف زرداری اور نواز شریف جو حکمران تھے انہوں نے کبھی اس کی مذمت نہیں کی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مغربی حکمران آپ کی عزت اس وقت کرتے ہیں جب انہیں نظر آئے کہ ہمیں اپنی ملک کی فکر ہے، جب یہاں کوئی سفیر یا حکمراں مجھ سے ملنے آتا ہے تو اس کی پوری زندگی کی تفصیلات مجھے فراہم کی جاتی ہیں اسی طرح جب ہماری حکمراں ملنے کہیں اور جاتے ہیں تو وہاں بھی ملاقات سے قبل آپ کی تفصیلات وہاں پہنچادی جاتی ہیں جس میں لکھا ہوتا ہے کہ لندن میں آپ کی پراپرٹی کتنی ہے؟عمران خان نے کہا کہ 25 سال قبل بھی قوم سے کہا تھا کہ نہ کسی کے سامنے جھکوں کا اور نہ اپنی قوم کو کسی کے سامنے جھکنے دوں گا، 15 سال بعد سارے مسلمان ممالک کے وزرائے خارجہ او آئی سی کانفرنس میں اسلام آباد آرہے ہیں، ہم سب ممالک سے تعلقات رکھیں گے۔
وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوجوان ہمارے ملک کا مستقبل ہیں ، ہم نے ایک اعظم قوم بننا تھا مگر نہیں بن پائے جبکہ جب قوم ظلم اور کرپشن کے خلاف کھڑے نہیں ہونگے تو یہ بڑھ جائے گی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے سب سے پہلے تعلیم پر کام کیا، ہم نے 26 لاکھ اسکالر شپ دی جبکہ پاکستان میں امیر اور غریب کے لیے یکساں نصاب کرلیا ہے، پاکستان میں پہلی بار انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دو یونیورسٹیاں بنارہیہیں۔ پاکستان میں گزشتہ 10سالوں کے دوران 400سیزائد ڈرون حملے ہوئے، آصف زرداری اور نوازشریف نے ڈرون حملوں کی مذمت نہیں کی۔20سے زائد سفیروں نے مجھے کہا کہ ڈرون حملوں کی مخالفت کیوں کررہے ہو، میں نے جواب دیا تم لوگوں نے لندن میں ایک دہشت گرد بٹھایا ہوا ہے۔عمران خان نے کہا کہ یورپی یونین کے سفیر نے خط لکھ کر کہا کہ روس کیخلاف بیان دیں، میں نے یورپی یونین کے سفیر کو کہا کہ بھارت کو بھی خط لکھا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں ہر ملک سے اچھے تعلقات رکھنے چاہییں، امریکا ایک بڑا پاورفل ملک ہے،ہمارے پاکستانی وہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین نے بہت کم وقت میں پاکستان کو جہاز فراہم کیے، روس کے صدر نے ہم کو عزت دی،3گارڈآف آنر پیش کیے اور صدر ٹرمپ نے مجھے عزت دی کیونکہ اس کو پتہ تھا میں دونمبر نہیں۔وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں 15سال بعد اسلامی ممالک کی کانفرنس ہورہی ہے، دنیا سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں مگر پاکستان کے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ تحریک عدم اعتماد پر وزیراعظم کا کہنا تھاکہ اس کی کوئی فکر نہ کریں یہ جو سب اکٹھے ہو کر کوشش کررہے ہیں کہ حکومت گر جائے گی، آنے والے دنوں میں سب دیکھیں گے کہ بجائے حکومت گرنے کے جو تین چوہے شکار کیلئے نکلے ہیں ان کا شکار ہوتے دیکھے گے،دراصل احتساب کے ڈر سے سارے چور اکٹھے ہورہے ہیں۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ کورونا کے باعث دنیا کی معیشت ٹھپ ہوگئی، سب کو کہا اگر لاک ڈاون لگایا تو مزدور کا کیا بنے گا لیکن سندھ حکومت نے میری بات نہیں مانی اور لاک ڈاون لگادیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ میرا ایمان ہے پاکستان ایک عظیم ملک بننے جارہا ہے، پاکستان نے کورونا کے دوران بہتر اقدامات کیے دنیا نے تعریف کی اور اگر ہم نااہل ہوتے تو دنیا ہماری پالیسی کی تعریف نا کرتی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سب سے سستا پٹرول 150روپے فی لیٹر ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں10روپے اور بجلی کی قیمت 5روپے کم کردی، ٹیکس کا پیسہ ملتارہیگا قوم پر خرچ کرتے رہیں گے۔وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ غریب عوام کو سستا گھر دینے کے لیے بینکوں نے قرض دینا شروع کردیا ہے، گھر کا کرایہ دینے والے اب بینک کو قرض کی رقم دے کر اپنا گھر حاصل کریں گے اور دو کروڑ خاندانوں کو احساس راشن کارڈ پر سبسڈی بھی ملے گی۔