اسلام آباد(نیوز ڈیسک)شہبازگل کےجسمانی ریمانڈ مسترد ہونے کیخلاف نظرثانی اپیل کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ کچھ دیربعد سنایا جائے گا۔
(نورالامین) تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت اسلام آباد میں شہبازگل کے جسمانی ریمانڈ مسترد کرنےکے خلاف نظرثانی اپیل پر سماعت ہوئی۔
ایڈیشنل سیشن جج عدنان خان نے نظرثانی اپیل پرسماعت کی جبکہ پراسیکیوٹر راناحسن عباس عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
پی ٹی آئی کے رہنما علی نوازاعوان اور ذلفی بخاری بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
پراسیکیوٹررانا حسن عباس نے عدالت سے استدعا کی کہ ایڈووکیٹ جنرل خود آرہے ہیں، سماعت میں وقفہ کیا جائے جس کے بعد عدالت نے سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کر دیا۔
ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹرنے کہا کہ جوڈیشل آرڈر ہے یا ایڈمنسٹریٹو آرڈر ہے اس کو عدالت نے دیکھنا ہے۔ جس پر عدالت نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل صاحب آپ کی پوزیشن نیوٹرل کی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل کی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹرکو روکنے کی کوشش کے دوران عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو ڈسٹرکٹ پراسیکوٹر کو دلائل دینے سے روکنے سے روک دیا۔
عدالت نے کہا کہ جدون صاحب آپ کی پوزیشن نیوٹرل کی ہے۔
ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے نظرثانی اپیل قابل سماعت ہونے پردلائل کا آغازکیا جس میں انھوں نے نظرثانی اپیل قابل سماعت ہونے پر مختلف عدالتوں کے حوالے دیے۔
عدالت نے شہباز گل کیس کا فیصلہ محفوظ کرلی، اپیل کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ کچھ دیربعد سنایا جائے گا۔









