بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پنجاب سندھ اور بلوچستا ن میں پانی کی قلت قحط کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے،چیئرمین سندھ طاس واٹر کونسل کا بیان

لاہور(ممتاز رپورٹ)سندھ طاس واٹر کونسل پاکستان کےچیئرمین اور ورلڈ واٹر اسمبلی کے چیف کوارڈی نیٹر حافظ ظہورالحسن ڈاہر نے کہاہے  کہ آئے دن جس طرح صوبہ پنجاب اور بلوچستان میں پانی کی قلت بڑھتی جارہی ہے کسان اور باری نہروں کی ٹیلوں پر احتجاج کررہے ہیں یہ پاکستان میں طویل المدتی بھوک پیاس اورقحط کادورشروع ہونے کاپیش خیمہ ہےوہ دن دور نہیں کہ پاکستان کے غیور عوام بندقیں اٹھاکردریاؤں کی طرف دوڑیں گے لیکن اس وقت بہت دیرہوچکی ہوگی دریائے ستلج بیاس اور راوی کی طرح دریائے چناب جہلم اور سندھ میں ایک گھونٹ پانی کانہیں ہوگا یہ اٹل حقیقت ہے کہ بھارت پاکستان کی طرف بہنے والے دریاہیڈورکس اور نہریں خشک ہورہی ہیں یہ ناقبل تردید حقیقت ہے کہ ہمسایہ ملک بھارت پاکستان کی طرف بہنے والے باقیماندہ دریاؤں چناب جہلم نیلم اور دنیاکا ساتوں بڑے دریاسندھ کارخ بھی شمال سے جنوب کی طرف موڑنے کے متعلق بڑے بڑے منصوبوں اور اور ہائی میگا واٹر پلان پر عمل پیرا ہے جن کی تکمیل کے بعد پاکستان میں قحط سالی اور پیاس کاایساطوفان آنے والاہے جس کو اقوام متحدہ سمیت بڑی طاقت بھی نہیں روک سکے گی جس طرح کہ ایگلیارڈیم کی تعمیر سے قبل دریائے چناب سے پنجاب کی 70 لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوتی تھی اب 25 لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوگی چونکہ اب دریائے چناب کا 97 فی صد حصہ خشک ہوچکاہے اب بھارت دریائے چناب مزید چاربڑے ڈیم اور چوبیس چھوٹے ڈیموں کی تعمیر شروع کی ہوئی ہے جو 2027 ء تک مکمل ہوجائیں گے اس طرح بھارت دریائے جہلم کاپانی اپنی حدود میں روکنے کیلئے وولربیراج سمیت بڑے چھوٹے 54ڈیم بنارہا ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے 13 ہیڈورکس ،44 بڑی نہریں 1150 چھوٹی نہریں اور ایک لاکھ ستر ہزار آبی کھال بند پڑے ہیں صوبہ بلوچستان سندھ اورجنوبی پنجاب زبردست قحط سالی کاشکار ہیں ملک بچاناہے توہنگامی بنیادوں پردریاؤں کاپورانظام پاک فوج کے حوالے کردیا جائے۔