بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایمن الطواہری ہلاکت؛ امریکا اجازت کے بغیر ہمارے علاقوں میں داخل ہوا، انس حقانی

کابل (نیوزڈیسک) افغان طالبان رہنما انس حقانی کہتے ہیں کہ ان کی حکومت مسلح گروہوں کو اپنی سرزمین سے کام کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
طلبان حکومت کی ایک سال کے دوران کامیابیوں اور ناکامیوں سے متعلق انس حقانی نے کہا کہ ہم نے شروع سے ہی دوحہ معاہدے کا احترام اور احترام کیا ہے۔ امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد سے 14 ماہ کے دوران اس معاہدے کی خلاف ورزی کا ایک بھی معاملہ سامنے نہیں آیا۔ اس حقیقت کا ایک زندہ ثبوت معاہدے کا میزبان ملک قطر ہے۔
انس حقانی نے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے معاہدے پر مکمل عمل کے برعکس امریکی افواج اور سابقہ کابل حکومت نے ایک ہزار سے زائد خلاف ورزیاں کیں، امریکا میں جو بائیڈن اقتدار میں آئے تو انہوں نے ہم سے بات کئے بغیر ہی طے شدہ انخلا کی مدت میں مزید چار ماہ کی توسیع کردی۔ امریکا نے آج تک ہمارے رہنماؤں کے نام بلیک لسٹ سے نکالنے میں تاخیر کررہا ہے۔ ان تمام خلاف ورزیوں کے باوجود ہم نے تشدد کا سہارا نہ لینے کو ترجیح دی۔
عالمی برادری سے قیام امن اور انسانی حقوق سے متعلق کئے گئے وعدوں پر عمل کے حوالے سے افغان طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ افغانستان پر 20 سال تک عالمی طاقتیں قابض رہیں لیکن وہ اپنی تمام تر ٹیکنالوجی اور وسائل کے باوجود ملک میں امن کے قیام میں ناکام ہوئیں، ہمیں اقتدار سنبھالے صرف ایک سال ہوا ہے اور دنیا کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ ہم راتوں رات اپنے تمام اہداف حاصل کر لیں گے۔
انس حقانی نے کہا کہ عالمی برادری نے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کئے، انہوں نے نا تو ہماری حکومت تسلیم کی اور نا ہی غیر ملکی امداد ملی۔ اس کے باوجود ہم نے بہت سے معاملات پر کامیابی حاصل کی۔
طالبان رہنما نے مزید کہا کہ ملک میں 12ویں جماعت تک لڑکیاں یونیورسٹیوں اور اسکولوں میں تعلیم حاصل کرسکتی ہیں۔ ہمیں ابھی بہت سے اقدامات کرنے ہیں۔ ان چیلنجوں کی موجودگی میں ہم سے یہ توقع نہ رکھی جائے کہ ہم وہ کچھ حاصل کریں گے جو دوسرے 20 سال میں حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
بلیک لسٹ کئے گئے طالبان رہنماؤں کی جگہ دیگر افغان شہریوں کو حکومت میں شامل نہ کئے جانے کے سوال پر انس حقانی نے کہا کہ بلیک لسٹ اور پابندیاں سیاسی ہتھیاروں کے سوا کچھ نہیں۔ اقتدار میں آنے والے اپنے راستے کی رکاوٹ بننے والے ہر شخص کو ‘دہشت گرد’، ‘دشمن’ اور ‘مجرم’ وغیرہ کا لقب دیتے ہیں، یاسر عرفات اور نیلسن منڈیلا برسوں تک بلیک لسٹ پر رہے اور بعد میں انہیں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔

انس حقانی نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مقصد اپنے ملک کو غیر ملکی قبضے کی زنجیروں سے آزاد کرنا، اپنی آزادی اور خودمختاری دوبارہ حاصل کرنا تھا، اور یہ ہم نے پورا کیا۔ ہم دوسرے ممالک یا لوگوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔ ہم اور پوری افغان عوام اپنے قائدین کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ مسائل وقت کے ساتھ حل ہو جائیں گے۔
ایمن الطواہری کے قتل اور دیگر واقعات پر طالبان رہنما نے کہا کہ دوحہ معاہدے پر دستخط کے بعد سے ہم اپنی تمام ذمہ داریوں کو پوری طرح ادا کررہے ہیں ۔ الزام لگانے والے کوئی ایک مثال دیں کہ جس میں ہمارے علاقوں کو دوسرے ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا ہو، ہم سب سے پہلے اپنے لفظ کا احترام کرنے کے پابند ہیں۔
انس حقانی نے کہا کہ دوحہ معاہدہ واضح طور پر ہمارے ساتھ ساتھ امریکا پر بھی ذمہ داریوں کا تعین کرتا ہے۔ اگر کوئی خلاف ورزی ہوئی ہے تو یہ امریکا ہی کی طرف سے ہوئی جو ہماری اجازت کے بغیر ہمارے علاقوں میں داخل ہوا، یہ امریکا کی طرف سے معاہدے کی واضح خلاف ورزی تھی۔