کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ شہباز گل کو جیل میں ننگا کرکے مارا گیا ہے، ان سے کہا جارہا ہے کہ کہو کہ انہوں نے بیان عمران خان کے کہنے پر دیا، شہباز گل سے پوچھتے ہیں کہ یہ بتائو عمران خان کھانا کیا کھاتا ہے، یہ بھی بتائو کہ جنرل فیض کتنی مرتبہ عمران خان سے ملنے آیا،موجودہ الیکشن کمشنر کو نیوٹرلز کے کہنے لگایا، آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ میرا تو اسمیں اب کوئی ایشو نہیں ہے وہ تو یہ حکومت فیصلہ کرے گی جو بیٹھی ہوئی ہے ، اسٹیبلشمنٹ سے صرف ایک مسئلہ ہمارا آیا کہ میں چاہتا تھا کہ جنرل فیض سردیوں تک رہے یہ مسئلہ تھا اور تو کوئی ہمارا مسئلہ نہیں تھا ،ہاں ایک عثمان بزدار کا تھا وہ سمجھتے تھے کہ عثمان بزدار کو بدلو ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک انٹرویو میں کیا۔ عمران خان نے کہاکہ توشہ خانہ اور فارن فنڈنگ کا کیس احمقانہ ہے۔ عمران خان نے کہا کہ شہباز گل نے کیا کہا ہے ، فضل الرحمن کو سن لیں اس نے کیا کہا ہے ،نواز شریف نے فوج کے متعلق کیا کہا ہے ، مریم نے کیا کہا ہے وہ ایاز صادق نے کیا کہا ہے ان کی تو پہلے بیانات دیکھیں ان کے اوپر تو کچھ کرنا نہیں ہے ، ہاں اس نے غلط لائن بول دی ۔عمران خان نے کہا کہ پہلی مرتبہ ہم نے دیکھا کہ جاتی ہوئی حکومت کے حق میں وہ کھڑے ہوئے اور لوگوں نے مٹھائیاں نہیں بانٹیں۔جو جمہوری لوگ ہوتے ہیں جو جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں وہ ہمیشہ عوام کے پاس جاتے ہیں وہ بیرونی طاقتوں کو ٹیلی فون نہیں کرتے کہ مجھے آکر بچالو جس طرح آصف زرداری نے اپنے ایمبسیڈر کے ذریعے امریکی آرمی چیف کو بتایا کہ جی کسی طرح آصف زرداری کو پاکستان کی فوج سے بچالو یا وہ نواز شریف جو چھپ چھپ کے میٹنگز کررہا تھانریندر مودی کے ساتھ کھٹمنڈو میں ، برکھا دت اپنی کتاب میں لکھتی ہے اور وہ پھر جو ڈان لیکس ہے اپنی فوج کو ہی کہہ رہے ہیں جی یہ دہشت گرد ہے ۔ ہم تو جمہوریت پسند ہیں یہ جو دونوں پچھلے لیڈرز ہیں ان کے پیسے باہر پڑے ہوئے ہیں اور جب ان کو مسئلہ آتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن اصل میں اس ملک کی بڑی بدقسمتی ہے کہ ایک ایسا الیکشن کمشنر آگیا جو ایکMorally corrupt اور بزدل قسم کا آدمی ہے دباؤ برداشت نہیں کرسکتا پتہ نہیں یہ بنا کیسے ۔ مجھے کہا گیا شہباز شریف نے اپنے نام دیئے ، ہم نے اپنے الیکشن کمشنر کے نام دیئے ناں انہوں نے ہمارے تسلیم کئے اور ناں ہم نے انکے تسلیم کرنے تھے تو پھر بیچ میں نیوٹرلز پڑے اور انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے اس آدمی کو رکھ لو ، میں تو اسے جانتا نہیں تھا ، انہوں نے کہا ہم گارنٹی دیتے ہیں کہ یہ ٹھیک کام کرے گا۔ اس سوال پر نیوٹرل پنڈی والے یا اسلام آباد والے ؟ عمران خان نے کہا کہ نیوٹرل اسٹبلشمنٹ یعنی جس کو ہم آج نیوٹرل کہتے ہیں اب افسوس یہ ہوا کہ ایہ جس دن سے آیا ہے اس نے کھلے عام ایک پارٹی کی مخالفت کی اس میں تو کوئی شرم ہی نہیں ہے یہ انتہائی بے شرمی سے ہمارے خلاف ہر فیصلہ کرتا ہے۔ بزدل آدمی ہے اس کے پیچھے پورا پریشر ڈالا ہوا ہے کہ کسی طرح کوئی چیز توملے ۔اس سوال پر کس نے پریشر ڈالا ہے ؟ عمران خان نے کہا کہ پیچھے آپ کو پتہ ہے جو سارے پریشر ڈالنے والے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ شہباز گل کو مار کر پوچھ رہے ہیں کہ جنرل فیض ، ویسے ہی پوچھ لیں یعنی مار کر پوچھ رہے ہیں کہ جس طرح سے پتہ نہیں کوئی سازش ہورہی ہے او رپھر جو سب سے سوچنے والی بات ہے کہ عمران خان کھانا کیا کھاتا ہے ۔ اب میں آپ کو بتاؤں جب سے یہ امپورٹڈ حکومت آئی ہے ان کرپٹ لوگوں کی ، چوروں کی شہباز شریف کے اوپر 16 ارب روپے کے اس پر اور اس کے بیٹوں کے اوپر ایف آئی اے کے اندر کیسز تھے چار گواہ دو مہینے میں مرے اور ایک جو انویسٹی گیٹر تھا وہ مرا ،پانچ لوگ ہارٹ اٹیک سے مرے دو مہینے کے اندر ، اب مجھے یہ بتائیں کوئی کسی نے تحقیق کی ہے کہ وہ لوگ مرے کیسے ہارٹ اٹیک ہوگیا ، کھانے کے اندر کوئی چیز ڈالتے ہیں جس سے ہارٹ اٹیک ہوتا ہے تو میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ انہوں نے کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ انہوں نے میرے خلاف ایک پلان بنایا ہوا ہے میں تو پبلک کو کہہ بیٹھا ہوں میں نے تو وڈیو ریکارڈ کرکے چھوڑی ہوئی ہے محفوظ جگہ پر جب بھی اگرمجھے کچھ ہوگا وہ پبلک کے سامنے آئے گی۔عمران خان نے کہا کہ گیم یہ ہے کہ کسی طرح عوام کے اندر متنفرکرو کہ اور پھر غداری کا کوئی کیس کرو جو شہباز گل کے اوپر کررہے ہیں اور پھر سے میں کہتا ہوں کہ پہلے دیکھ لیں۔ ہماری آپس میں لڑائی کروائیں فوج اور پی ٹی آئی کی جو سب سے بڑی پارٹی ہے پاکستان کی واحد پارٹی ہے جو سار ے صوبوں کی ترجمانی کرتی ہے ،فیڈریشن کو اکھٹا رکھ سکتی ہے ۔آرمی چیف کے فون کے حوالے سے عمران خا ن نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ باہر کی دنیا ان کو مانتی ہے آپ سوچیں کہ جب آرمی چیف فون کررہا ہے یو اے ای کو ، سعودی عرب کو امریکا کو کہ جی ہمیں پیسے دیدو تو وہ اس لئے کررہا ہے کہ وہ ممالک حکومت کو مانتے نہیں ہیں ۔ عمران خان نے کہا کہ ہمارے دور میں ہم جب گئے تھے ، میرے دور میں کیا ، ہم یہاں بیٹھے ہوتے تھے تو کیا آرمی چیف فون کررہا ہوتا تھا، ہمارے دور میں چائنا ہم گئے انہوں نے پیسے دیئے اس وقت جب سابق حکومت بینک کرپٹ ملک چھوڑ کر گئی تھے ہم سعودی عرب گئے انہوں نے پیسے دیئے، یو اے ای گئے انہوں نے پیسے دیئے ، ہمیں وہ پیسہ ملا اس کے بعد ہم نے اپنا ملک سنبھال لیا۔
شہباز گل سے کہا جارہا کہو بیان عمران کے کہنے پر دیا، عمران خان








