ملتان ( مقبول حسین)پاکستان میں تعینات آذربائیجان کے سفیر خضر فرحادوف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور کاروباری تعلقات بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔پاکستان کی ترقی اور سالمیت کے لیے ساتھ کھڑے ہیں۔ان باتوں کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایوان تجارت و صنعت ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقعہ پر ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر خواجہ محمد حسین،سینئر وائس پریزیڈنٹ سہیل طفیل،وائس پریذیڈنٹ نوید اقبال چغتائی،ذوالفقار گردیزی،خواجہ محمد ندیم،شاہد محمود خان،اورنگزیب عالمگیر،رابعیہ شہزاد،صالحہ حسن،ناصر رضا،آفاق احمد انصاری و دیگر موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان وہ ملک ہے جس نے آذربائیجان کی آزادی کے وقت سب سے پہلے اسے تسلیم کیا اور آذربائیجان کے تمام مسائل اور ایشوز پر یو این او سے لے کر ہر جگہ ہماری حمایت کی جس کے لیے آذربائیجان کی عوام پاکستان کی شکر گزار ہے ہم بھی نہ صرف پاکستان کی ترقی سالمیت کے لئے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں بلکہ کشمیر کے معاملہ پر بھی آپ کے ساتھ ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ یو این او کی قراردادوں کیمطابق حل ہو۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور کاروباری تعلقات بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں اس طرح دوطرفہ تجارت کا فروغ بھی بہت ضروری ہے اس کے لیے دونوں ممالک کے مختلف چمبر آف کامرس بہت معاون و مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔آذربائیجان رقبے کے لحاظ سے چھوٹا ملک ہے جس کی آبادی دس ملین کے لگ بھگ ہے لیکن اب یہ ملک خصوصا باکو تجارتی مرکز بنتا جا رہا ہے۔ یورپ، روس، سنٹرل ایشیائی ریاستوں کے لئے یہاں سے تجارتی رسائی بہت آسان ہے۔آذربائیجان پاکستان کے لیے انرجی اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں بہت مدد فراہم کر سکتا ہے۔
ہم صحت، ماحولیات، بینکنگ، ٹرانسپورٹ اور آئی ٹی کے شعبے میں بہت تعاون کرسکتے ہیں۔ مستقبل انرجی اور آئی ٹی کے شعبہ جات میں مہارت رکھنے والوں کا ہے۔ آذربائیجان کے سفیر نے کہا کہ پاکستان کے لیے ہفتے میں چار فلائٹس کی آمد اور واپسی کے علاوہ پاکستان کو ترجیحی ملک کا درجہ دینے پر کام ہو رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری برآمدات کا زیادہ حصہ پاکستان سے آئے اس سلسلے میں اگر کاروباری سیکٹر کو مشکالات ہوں تو وہ ہمیں آگاہ کریں بعض اوقات ان مسائل سے ہم لاعلم ہوتے ہیں۔آگاہ ہونے پر فوری تدارک اور حل تلاش کر لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستانیوں کے لئے 20 روزہ ویزا کا بہت آسان آن لائن طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
پاکستان میں آذربائیجان کے سفارت خانے میں ایک نئی ویب سائٹ بھی قائم کی جارہی ہے جو کاروباری اور تجارتی سیکٹر سے تعلق رکھنے والوں کی مشکلات مسائل کے فوری حل کے لیے 24 گھنٹے کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آذربائیجان میں تعمیرات کے شعبے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی گنجائش ہے۔پاکستانی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس شعبہ میں زیادہ سرمایہ کاری کر کے زیادہ سے زیادہ حصہ وصول کریں۔انہو نے کہا کہ پاکستانی مصنوعات پر ٹیکسزکے معاملات کو دیکھ رہے ہیں جلد ہی اس پر مثبت پیش رفت ہوگی۔ اس آذربائیجان میں پاکستانی مصنوعات سستی دستیاب ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے اپنے تمام ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہت اچھے ہیں۔آذربائیجان سے زمینی راستہ کے ذریعے تجارت پر ہم ہر مثبت تجویز کا خیرمقدم کریں گے
یہ راستہ چاہیے ایران سے بھی ہو۔ہم عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تمام ممالک نہ صرف ایک دوسرے کی سرحدوں کا احترام کریں بلکہ عالمی قوانین کے مطابق جیو اور جینے دو پر عمل کریں۔اس موقع پر پاکستان کے امریکہ، ڈنمارک اور دیگر ممالک میں تعینات پاکستان کے سابق سفیر ذوالفقار گردیزی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے گہرے و دیرینہ تعلقات اپنی جگہ تاہم آذربائیجان کی عوام بھی پاکستانیوں کو اپنا بھائی اور محسن سمجھتا ہیں۔آذربائیجان اور پاکستان کے ثقافتی اور قدیمی تہذیب و تمدن میں بہت ہم آہنگی ہے
اور دونوں ممالک کے تعلقات مثالی ہیں میری تجویز ہے کہ ہفتے میں چار فلائٹس کے پروگرام میں کارگو فلائٹس بھی شامل کی جائیں۔ اس موقع پر ایوان تجارت وصنعت ملتان کے صدر خواجہ محمد حسین نے کہا کہ دونوں دوست اور برادرانہ تعلقات رکھنے والے ملک اپنی تجارت بڑھا کر نہ صرف اپنے اپنے ملک کی معیشت مضبوط بناسکتے ہیں بلکہ بے روزگاری میں کمی اور معاشرے میں خوشحالی لا سکتے ہیں۔ اس کے لئے ہماری تجویز ہے کہ دونوں ممالک کے چیمبرز میں …









