اسلام آباد(نیوزڈیسک)تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ شہبازشریف منگل کو ’جے756 ‘ پر دوحہ پہنچے، بدھ کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا ایک خصوصی مشن جیٹ این467 اے ایم اسرائیل سے دوحہ پہنچا۔
اپنے ٹویٹ میں شیریں مزاری نے کہا کہ اسرائیلی طیارہ تقریباً 9 گھنٹے تک وہاں رہا، دونوں طیارے تقریباً 9 گھنٹے تک ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے، یہ تمام معلومات کھلے ہوائی جہاز ٹریکر سے حاصل ہوئیں۔
شیریں مزاری نے سوال اٹھایا کہ کیا شہباز شریف یا پاکستانی حکام کی اسرائیلی حکام سے طیارے کےاندر کوئی ملاقات ہوئی؟ کیا میڈیا پر پکڑے جانے سے بچنے کیلئے کوئی ملاقات طیارے کے اندر ہوئی؟ یہ امریکی حکومت کی تبدیلی کا ایجنڈا ہو سکتا ہے؟
شیریں مزاری نے مطالبہ کیا کہ وزارت خارجہ کی جانب سے اس پر کوئی وضاحت آنی چاہیے۔
I think an official response should come from Mofa at the very least. There is more info on this supposed coincidence. SS arrived in Doha Tue on J-756. On Wed a Mossad special missions jet (n467am), arrived from Israel & stayed there for nearly 9 hours. https://t.co/c6vG3feoLL
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) August 25, 2022
The two jets remained parked next to each other for the almost 9 hr duration. All this info from open sources/plane tracking. Q is could a mtg have taken place btwn SS or Pak State off & Israeli off inside one of the jets to avoid being caught on media? US regime change agenda?
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) August 25, 2022









