بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نواز شریف کاسپریم کورٹ کو خط لکھنے کا فیصلہ

اسلام آباد(ممتازنیوز) سابق وزیراعظم نواز شریف کا سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ ، تفصیلا ت کے مطابق سینئرصحافی و اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے نجی ٹی وی کےپروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف نے بارہا مجھ سے کہا کہ آپ جا کر شہباز شریف سے ملیں اور انہیں کہیں کہ وہ معاشی پالیسیوں پر غور کریں، شہباز شریف کو چاہیےکہ وہ معاشی پالسیوں کے حوالے سے خود عوام کو اعتماد میں لیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہےکہ نواز شریف اپنےکیسز نہ سنے جانے پر اور ان کے جو معاملات لٹکے ہوئے ہیں اس پر کوئی بڑا ایکشن لینے والے ہیں، وہ براہ راست سپریم کورٹ کو خط لکھ سکتے ہیں، ان کا مؤقف ہوگا کہ دوسروں کے لیے تو عدالتیں رات کو کھل جاتی ہیں میری ایک عرضداشت بھی نہیں سن رہے، یہی ان کا آئندہ بیانیہ ہوگا جس میں وہ کہیں گے کہ ان سے انصاف نہیں ہوا اور سب کچھ عدالتوں نےکیا ہے، پہلے وہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ دونوں کو ملا کر بیانیہ بنایا کرتے تھے، ایسا لگتا ہے کہ اب ان کا اگلا بیانیہ عدلیہ اور چند ججز کے خلاف ہوگا، اسی پر وہ سیاست کرنا چاہیں گے۔سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ لندن میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہےکہ جیل جائے بغیر مقدمات کا سامنا کیا جائے، جیل جانا کوئی اچھی حکمت عملی نہیں، جب جیل کا معاملہ ختم ہوجائے تو واپس آیا جائے، وہ محسوس کررہے ہیں کہ حکومت ان کی پارٹی کی ہے، عدالت ان کے کیسز نہیں سن رہی، حکومت تو چل رہی ہے لیکن ان کے معاملات جوں کے توں ہیں، نوا ز شریف سمجھتے ہیں کہ اگر وہ پاکستان آگئے تو وہ عمران خان کا مقابلہ کرنے کا بیانہ بنالیں گے، پر ان کے آنے کی کوئی حتمی تاریخ طے نہیں۔مریم نواز کے حوالے سے سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ مریم سے وہ بہت مطمئن ہیں، وہ خوش ہیں کہ جو میں کہتا ہوں مریم وہ کرتی ہیں۔سہیل وڑائچ کے مطابق نواز شریف اور مریم ایک پیج پر ہیں اور شہباز شریف اور حکومت الگ پیج پر ہیں۔