بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سیلاب سےڈی جی خان اور راجن پور میں بڑے پیمانے پرتباہی ، متاثرہ علاقوں میں ریلیف و بحالی کا عمل جاری ہے، ثاقب علی عطیل

ملتان ( مقبول حسین  )  سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے سیلاب متاثرین کیلئے جاری امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لنے کیلئے راجن پور کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی ٹیموں کو ریلیف سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ راجن پور کے تمام متاثرہ علاقوں میں ریلیف و بحالی کا عمل جاری ہے

تمام محکمے بھرپور کام کررہے ہیں۔ سیلاب متاثرین کو خیمے، راشن، پینے کا پانی، مویشیوں کیلئے چارہ سمیت دیگر ضروری سامان فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب اور رودکوہیوں کے پانی سے فصلوں اور مکانات کے نقصانات کے تخمینہ کیلئے سروے کمیٹیوں نے اپنا کام شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں سیلابی پانی کھڑا ہے وہاں پر اور ریلیف کیمپس پرمحکمہ صحت کو مچھروں سے بچاو کے لۓ سپرے کرنے اور وباٸ امراض کے پھوٹنے سے بچاو کے لۓ ٹیمیں متحرک رکھنے کی ہدایت جاری کی۔

سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب نے بتایا کہ ڈی جی خان اور راجن پور میں سیلاب سے 3لاکھ 57 ہزار 171 ایکڑ رقبہ پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے جن میں کپاس 1لاکھ 76ہزار12 ایکڑ، دھان 53 ہزار 532 ایکڑ، تل اور مونگ کی 21 ہزار 784، کماد 28 ہزار 272 ایکڑ، چارہ جات کے 77ہزار 556 ایکڑ شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب اور رودکوہیوں کے پانی سے راجن پور کے 179 مواضعات متاثر ہوئے ہیں۔ جس میں سے 24 ہزار 794 گھروں کو نقصان پہنچا جبکہ سیلاب سے2 لاکھ 90 ہزار 837 ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے راجن پور میں پاک آرمی اور ریسکیو 1122 کی 81 کشتیاں اور 438 ریسکیوئر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور اب تک 43 ہزار 350 لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔

سیلاب متاثرین کیلئے ضلع میں 39 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں پر 421 فیملیز قیام پذیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع بھر میں سیلاب متاثرین میں 10 ہزار 234 ٹینٹس، 21 ہزار 437 فوڈ ہیمپرز سمیت دیگر ضروری سامان تقسیم کیا جاچکا ہے جبکہ 77ہزار 520 لوگوں کو پکا ہوا کھانا بھی فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ سیلابی علاقوں میں لوگوں کی صحت پر خصوصی فوکس ہے ضلع بھر میں 62 ہیلتھ ٹیمیں لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ جانوروں کی دیکھ بھال کیلئے بھی 58 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔